ترقی کے دور میں پیچھے رہ گئے سکلیگر برادری کے بچے

جے پور سے اجمیر جانے والی شاہراہ پر جھونپڑیوں کا ایک جھرمٹ ہے۔ ان میں سے اکثر کے باہر لکڑی کے فریم میں سائیکل کے پہیوں سے بنی کئی مشینیں رکھی ہوئی ہیں۔ یہ چھریوں کو تیز کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جو جھونپڑیوں میں رہنے والوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہیں۔ 12 سالہ راہل اپنے والد کے ساتھ ایک جھونپڑی میں رہتا ہے، جو یومیہ اجرت کرنے والا مزدور ہے، اور اس کی ماں بانس کی ٹوکریاں بُنتی ہے۔ راہل کا تعلق لوہاروں کی سکلیگر برادری سے ہے جو چھریوں، قینچیوں اور کھیتی کے آلات کو تیز کرنے کے لیے جے پور کی سڑکوں پر گھومتے ہیں۔ سکلیگر برادری کے لوگ سکھ گرو تیغ بہادر کی فوج کے لیے ہتھیار بنانے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ہر صبح تقریباً 8 بجے رات چھاچھ میں دو باسی روٹیاں توڑنے کے بعد راہل اپنی پیٹھ پر تقریباً 20 کلو گرام وزنی لکڑی کا آلہ اٹھا کر شدید گرمی میں باہر نکل جاتا ہے۔ بعض اوقات وہ اپنی پیٹھ پر اس وزن کے ساتھ تقریباً 10 کلومیٹر پیدل چلتا ہے، اس امید پر کہ کہیں کسی کو اس کے کام کی ضرورت ہوگی۔ اگر قسمت نے اس کا ساتھ دیا تو وہ روزانہ 150 روپے کما کر واپس آئے گا۔


راہل نے بتایا، ”میں صبح کبھی یہ سوچ کر نہیں نکلتا کہ کہاں جانا ہے۔ بس اسٹینڈ پر جو بھی بس دستیاب ہے میں اس میں بیٹھتا ہوں اورجہاں چاہتا ہوں نیچے اترجاتا ہوں۔ کبھی کبھی جب میرے پاس پیسے نہیں ہوتے تو میں پیدل چلا جاتا ہوں۔ پھر جے پور شہر کی ایک کالونی کی گلیوں میں چلتے ہوئے آواز لگاتا ہوں ’چاقو، قینچی، چھوری پر دھار لگوالو“راہل کی طرح، سکلیگر برادری سے تعلق رکھنے والا 15 سالہ راجو بھی گزشتہ سات سالوں سے لوگوں کی چھریوں کو تیز کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ”میں کبھی اسکول نہیں گیا۔ ہم سب مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ اسکول میں داخلہ کیسے ہوتا ہے؟ میں بھی اسکول جانا چاہتا ہوں اور اچھی زندگی گزارنا چاہتا ہوں، لیکن ہمارے معاشرے میں کوئی نہیں پڑھتا۔ بچپن سے، یہی کام کرتے ہیں یا کوئی دوسری اجرت شروع کر دیتے ہیں ”


اس سلسلے میں راجستھان ریاست خانہ بدوش – نیم خانہ بدوش ویلفیئر بورڈ کے سابق صدر گوپال سنگھ کیشاوت نے کہا کہ ”سیکلیگاروں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جنگ کے دوران مہارانا پرتاپ کی فوج کے لئے ہتھیار بنانے اور مرمت کرنے کا کام کیا۔” 1891 میں میواڑ کی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق، سکلیگاروں کو میواڑ میں مارو بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن فی الحال ان کے بارے میں ریاست کے پاس کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سکلیگار راجستھان، گجرات، تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی ریاستوں میں ہندو مذہب پر عمل پیرا ہیں جبکہ پنجاب میں وہ سکھ ہیں۔ راجستھان میں انہیں خانہ بدوش کے طور پر درجہ بندی کیا جاتا ہے۔


جے پور میں واقع ایسوسیشن فار رورل ایڈوانسمینٹ تھرو والنٹری ایکشن اینڈ لوکل انوئلمینٹ یعنی اراولی کے پروگرام ڈائریکٹرورون شرما نے کہا ”یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اس عمر میں جب بچوں کے ہاتھ میں کتابیں، قلم اور کھلونے ہونے چاہئے تھے،اس عمر میں سکلیگر برادری کے بچے اپنے سروں پر وزن اٹھائے ہوئے گھریلو اوزاروں کو تیز کر رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ تعلیم تک رسائی نہ ہونا ان بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 21A اور آرٹیکل 45 میں کہا گیا ہے کہ چھ سے 14 سال کی عمر کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنا لازمی ہے۔ شرما نے کہا، ”لیکن، سکلیگر برادری کے سینکڑوں بچے اب بھی کسی بھی قسم کی تعلیم سے محروم ہیں۔”ان کے مطابق ان بچوں تک نہ تو کسی این جی او کی رسائی ہے اور نہ ہی حکومت کی بچوں سے متعلق کوئی سکیم ان تک پہنچتی ہے۔ اس لیے سب سے پہلے سکلیگر بچوں کی شناخت کی جانی چاہیے اور پھر انھیں کسی خاص اسکیم سے جوڑنا چاہیے۔


تعلیم کے علاوہ جے پور کے مضافات میں رہنے والی سکلیگر برادری کو پینے کے پانی یا صفائی ستھرائی تک رسائی نہیں ہے۔ راہل کے قریب ایک جھونپڑی میں رہنے والی لڑکی نینا نے کہا، ”ہمیں قریبی عمارت سے مانگ کرپینے کا پانی لانا پڑتا ہے۔ یہاں نہ بیت الخلاء ہے اور نہ کوئی دوسری سہولت، لیکن ہمیں زندگی گزانے کے لیے یہاں رہنا پڑتا ہے۔“ صحت بھی یہاں ایک بڑا مسلہ ہے۔ جے کے لون ہسپتال کے ماہر امراض اطفال اشوک گپتاکے مطابق”جس وقت بچوں کی ذہنی نشوونما ہوتی ہے، اس وقت یہ بچے محنت کر رہے ہوتے ہیں، اپنے کام کے علاوہ باہر کی دنیا کے بچوں سے ان کا میل جول نہیں ہوتا، یہ بچوں کی نشوونما کے عمل میں رکاوٹ بنتا ہے۔ڈاکٹر گپتا کے مطابق ”اپنا پورا بچپن مزدوری میں گزارنے ان بچوں کی ذہنی حالت بھی انتہائی منفی ہو جاتی ہے، ان کے مستقبل کے خواب دم توڑ جاتے ہیں، اکثر بچوں کی مزدوری بھی گھر والے ہی رکھتے ہیں، ایسی صورت حال میں ان بچوں کے ذہن میں خاندان اور نظام کے خلاف ایک خیال بن جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ خیال تشدد کی شکل بھی اختیار کر لیتا ہے،”۔


خانہ بدوش برادریوں کے ساتھ کام کرنے والے ایک سماجی کارکن اشونی کبیر اس کمیونٹی کے مرکزی دھارے سے الگ ہونے کی وجہ سیاسی سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ”کسی بھی حکومت کے پاس ان برادریوں کے لیے کوئی وژن نہیں ہے۔ خانہ بدوش برادریاں اپنی جبلت کے ساتھ رہنے والے لوگ ہیں۔ ہمارے معاشرے نے بھی ان کی ثقافت کو قبول نہیں کیا ہے۔ ان کی ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، حکومتوں کے پاس ان کمیونٹیز کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات نہیں ہیں اور حکومت اس سمت میں کچھ کرنا نہیں چاہتی۔اس سلسلے میں ریاست کے محکمہ سماجی انصاف کے سکریٹری سمیت شرما کو یہ جاننے کے لیے کئی بار فون کیا کہ آیا سکلیگر برادری کے لیے کوئی فلاحی کام ہو رہا ہے یا نہیں؟ لیکن انھوں نے کال کا جواب نہیں دیا۔
گجرات کے تیج گڑھ میں آدیواسی اکیڈمی کے اعزازی ڈائریکٹر مدن مینا کے مطابق”سکلیگرروں کو ہتھیاروں کی مرمت، ڈھال بنانے، تلواروں کی میان بنانے میں مہارت حاصل تھی۔ آزادی کے بعد سے ان تمام چیزوں کی اہمیت کم ہوتی گئی۔ تب سے یہ کمیونٹی پسماندہ ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آج تک حکومت اورسسٹم کوبھی ان کی صحیح تعداد کا پتہ نہیں ہے۔مصنف ورک نو چائیلڈ بزنس کے فیلو ہیں۔ (چرخہ فیچرس)

مادھو شرما
راجستھان