خواتین کے عالمی دن پر خاص

صحت مند اور محفوظ ماہواری کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے

گزشتہ دو سالوں کے دوران کورونا کی وبا کی وجہ سے زندگی کے بہت سے شعبے ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ لیکن لڑکیوں اور خواتین کے تناظر میں ایک بات توباقایدگی سے ہو رہی ہے اوروہ ہے ماہواری یا حیض۔ ہر 25سے28 دنوں کے بعد لڑکیوں اور عورتوں کے جسم سے پانچ دنوں تک خون بہتا رہتا ہے۔ اس دوران چاہے وہ گھر میں ہوں یا نوکری کر رہی ہوں، ریلیف کیمپوں میں ہوں، عام سڑکوں یا کہیں اور، اس عمل سے انہیں گزرنا ہی ہوگا۔کروناوبائی امراض کے دوران ضروری اشیاء کے حصول میں مشکلات کی وجہ سے زیادہ تر لڑکیوں اور خواتین کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہت جدوجہد کرنی پڑی ہے۔ ماہواری کے دوران ضروری صفائی کے لیے سینیٹری پیڈز کی عدم موجودگی میں لاکھوں خواتین کو غیر صحت مند طریقوں کا سہارا لینا پڑا۔ اس کی وجہ سے ان میں ممکنہ انفیکشن کے ساتھ ساتھ سروائیکل کینسر جیسی سنگین بیماری سمیت دیگر کئی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ گیاہے۔

حکومت اور سول سوسائٹی ضرورت مند لوگوں اور پسماندہ خاندانوں میں خوراک، صابن، سینیٹائزر اور ماسک تقسیم کرنے کے لیے آگے آئی، لیکن لڑکیوں اور خواتین کی ماہواری کی ضروریات ہمیشہ کی طرح ان کی بنیادی فہرست سے غائب تھیں۔ تاہم کوارنٹین مراکز اور ریلیف کیمپوں میں سینیٹری پیڈز کی تقسیم سے وہاں رہنے والی خواتین کو یقیناً راحت ملی، جو اکثر میڈیا کی سرخیاں بھی بنتی ہیں۔ اس کے باوجود اسے ایک ضروری اور طویل مدتی پالیسی اقدام میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔حالیہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کی رپورٹ کے مطابق بہار میں 15سے24 سال کی عمر کے گروپ کی صرف 58.8 فیصد خواتین ہی حفظان صحت کے طریقے استعمال کرتی ہیں۔ جبکہ یہ بہت اہم ہے کہ عام اوقات اور بحران دونوں کے وقت تمام لڑکیوں اور خواتین کے پاس حیض کے دوران محفوظ، اقتصادی اور ماحول دوست اختیارات ہوں، کیونکہ ماہواری کو محفوظ اور باوقار طریقے سے برقرار رکھنا ہر لڑکی اور عورت کا حق ہے۔ اس کو تسلیم کرتے ہوئے قدرتی آفات، وبائی امراض، سیلاب یا دیگر بحران کے دوران امدادی اقدامات کے طور پر تقسیم کیے جانے والے سینیٹیشن کٹس میں سینیٹری پیڈز کو ایک ضروری شے کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔ خاندانوں، برادریوں اور حکومتوں کو بھی اسے ترجیح کے طور پر یقینی بنانا چاہیے۔

پچھلے کچھ سالوں سے بہار حکومت حیض کے دوران صاف صفائی کے انتظام کے تئیں حساس ہو گئی ہے۔ اس کے لیے کچھ ترقی پسند اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں، جو کہ ایک مثبت علامت ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران محکمہ تعلیم نے یونیسیف کے تعاون سے 5500 سیکنڈری اسکول اساتذہ کو تربیت دی ہے۔ ان اساتذہ کے ذریعے ریاست کی 32 لاکھ سے زیادہ نوعمر لڑکیوں کو ماہواری کو قدرتی حیاتیاتی عمل کے طور پر سمجھنے، اس سے متعلق عقائد اور ممنوعات کو دور کرنے اور حفظان صحت کے انتظام کے بارے میں جاننے میں مدد ملی ہے۔ ‘مکھیہ منتری کنیا اتھان یوجنا’ کے تحت بہار حکومت 6سے8 کلاس کی ہر لڑکی کو سینیٹری پیڈ کے لیے 300 روپے کی سالانہ ترغیب دیتی ہے۔ تاہم یہ یقینی بنانا ایک چیلنج ہے کہ لڑکیاں اس گرانٹ کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کے قابل ہوں جس کے لیے یہ دی جا رہی ہے۔سیکڑوں اسکولوں میں تجرباتی بنیادوں پر پیڈ بینک، صابن بینک، ماہواری کے لیے حفظان صحت والے بیت الخلاء (پیڈ، صابن، کوڑے دان) اور ڈسپوزل یونٹ جیسی اسکیمیں متعارف کروائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ‘مینا منچ’ اور ‘بال سنسد’ جیسے طالب علم گروپوں کی طرف سے ان مسائل پر بیداری اور فعال بحث کی وجہ سے لڑکیوں کے ذہنوں میں حیض سے مطالق موجود شکوک و شبہات، خوف اور الجھنوں کو دور کرنے جیسے مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ ریاستی حکومت نے ماہواری سے جڑی حفظان صحت کے انتظام کے لیے ایک جامع ریاستی ایکشن پلان کا مسودہ تیار کیا ہے۔

2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال تقریباً 20 لاکھ لڑکیاں 12سے13 سال کی عمر کے درمیان اپنی پہلی ماہواری کا تجربہ حاصل کرتی ہیں۔سال 2015 کا ایک مطالعہ: اسپاٹ آن! امپروینگ مینسٹرول ہلتھ اینڈ ہائجین ان انڈیا‘کے مطابق ہندوستان میں 71 فیصد سے زیادہ لڑکیوں کو اپنی پہلی ماہواری سے پہلے اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہوتی ہے۔ معلومات کی کمی کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں کو ڈر تھا کہ ‘وہ ہر ماہ خون بہہ جانے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی جائیں گی’۔ اس کی بڑی بہنیں، ماں، خالہ وغیرہ اسے روئی کے کپڑے یا پیڈ کے ٹکڑے جیسے خون بہنے سے روکنے کے لیے مختلف اقدامات کرنے کے علاوہ روایتی پابندیوں پر عمل کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ اس کی وجہ سے انہیں نہ صرف صحت اور صفائی کے معاملے میں بلکہ ذہنی اور جذباتی پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم، کھیل اور دیگر منافع بخش مواقع سے محروم ہونا بھی معاشرے میں ان کی مجموعی شرکت اور مناسب مقام کو متاثر کرتا ہے۔

یونیسیف کی ریڈ ڈاٹ چیلنج جیسی اختراعی مہمیں خاموشی کے اس روایت کو ختم کرنے، خرافات کو توڑنے اور حیض کے دوران صفائی اور صحت کو بہتر بنانے سے جڑی عوامی بیداری اور عوامی حمایت کو متحرک کرنے میں مدد کرتی ہے۔زیادہ تر لڑکیوں کوحیض کے دوران شدید درد کے ساتھ چڑچڑاپن، بے چینی وغیرہ جیسے نفسیاتی مسائل کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اس پر شاذ و نادر ہی کوئی توجہ حاصل ہوتی ہے جب تک کہ یہ زرخیزی کو سنجیدگی سے متاثر نہ کرے۔ شرم کی وجہ سے ان کا مناسب علاج ممکن نہیں ہوپا تا ہے۔ سماجی اور صنفی اصولوں کے علاوہ، خاموشی کا مروجہ کلچر فوری اور حساس اقدامات کی راہ میں حائل ہے۔ یہ رویہ گہرائی سے جڑی پدرانہ سوچ کی پیداوار ہے، جس کے تحت خواتین کو مساوی حیثیت اور حقوق کے حاملین کے طور پر تسلیم اور احترام کو نظر انداز کرتے ہوئے، انہیں محض بچے پیدا کرنے اور پرورش کے ذرائع کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی صنفی اصولوں کے تناظر میں، ماہواری کے مسئلے پر نوعمروں اور نوجوانوں کے درمیان طویل مدتی مشغولیت اور مکالمے کی ضرورت ہے کیونکہ جب لڑکے اس معاملے پر حساس ہوں گے، تب ہی وہ اپنی ماں اوربہن کے ماہواری کے مسئلے سے متعلق مسائل کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں گے۔ اس کے لیے صنفی حساسیت پر مبنی پروگرام کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ اسے اسکول میں زندگی کی مہارت کی تعلیم کے ساتھ مربوط کیا جانا چاہیے۔ معاشرے کے تمام طبقات میں لڑکیوں اور لڑکوں تک وسیع تر رسائی کو یقینی بنانے کے لیے آن لائن اور آف لائن ورژن تیار کیے جا سکتے ہیں۔اس سلسلے میں طویل مدتی اور پائیدار نتائج کے لیے یہ ضروری ہے کہ حیض کے دوران حفظان صحت کے انتظام سے متعلق ایکشن پلان کو ریاستی حکومت اور یوٹی کی جانب سے ترجیحی بنیادوں پر مناسب بجٹ مختص کرنے کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ اس کا کامیاب نفاذ تعلیم، صحت، سماجی بہبود، دیہی ترقی اور دیگر بڑے محکموں کے واضح احتساب پر منحصر ہے۔اس کے ساتھ ہی میڈیا اور سول سوسائٹی سماجی اصولوں کو متاثر کرنے اور امتیازی سلوک سے لڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 10 لاکھ سے زیادہ سیلف ہیلپ گروپس، آشاورکر، آنگن واڑی کارکنان، اساتذہ اور کمیونٹی ورکرز سماجی ذہنیت میں تبدیلی لانے کے ساتھ ساتھ لڑکیوں اور خواتین کو مناسب معلومات اور مناسب مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔عام دنوں کے علاوہ ہر لڑکی اور عورت کو آفات کے دوران بھی حیض کے حوالے سے مناسب معلومات اور مدد فراہم کی جانی چاہیے۔

اس سلسلہ میں یونیسیف بہار کی ریاستی سربراہ نفیسہ بنت شفیق،کہتی ہیں کہ ماہواری ایک قدرتی عمل ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے لڑکیوں کوا سکول جانے، کھیلنے کودنے، سماجی، معاشی یا دیگر سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دیا جائے۔ عالمی یوم خواتین کے اس موقع پر حکومت، برادری، خاندانوں بشمول لڑکوں اور مردوں کو یہ عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر لڑکی اور عورت کو محفوظ اور صحت مند حیض کا حق حاصل ہوگا کیونکہ اس کی وجہ سے ہی یہ دنیا ممکن ہوئی ہے۔

رچنا پریہ درشنی
پٹنہ، بہار