پہاڑی علاقوں میں فائر سروس کو نظراندازکرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے

انسان نے جتنی ترقی کی اس کے ساتھ ساتھ اس ترقی کی وجہ سے سماج اور ماحولیات پر بھی اثرات رونما ہوئے۔ ایک جانب انسان نے ایٹم بم تیار کر لیا لیکن اس کے نقصان سے ہر ذی شعور واقف ہے۔ یعنی ہر ایک چیز کے منفی اور مثبت نتائج ہوتے ہیں۔آج کے اس ترقی یافتہ دور میں عمارات، گھروں اور دیگر کئی مقامات پر آگ کی ہولناک واردات سامنے آتی ہیں جہاں مالی کے ساتھ ساتھ جانی نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں فائر اینڈ ایمرجنسی محکمہ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاکہ آگ کی واردات پر قابو پایا جا سکے۔ دریں اثناء شہری اور میدانی علاقہ جات میں فائر اینڈ ایمرجنسی خدمات تو میسر ہو جاتی ہیں لیکن پہاڑی علاقہ جات میں ان خدمات کی کمی کی وجہ سے جانی اور مالی نقصان کا سامنا رہتا ہے۔ جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقہ جات میں فائر اینڈ ایمرجنسی خدمات کی کمی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے زیادہ نقصان کا اسامنا رہتا ہے۔ وادی چناب کے ضلع ڈوڈہ کے ضلع ہیڈکوارٹر ڈوڈہ سے تحصیل کاہرہ ستر کلومیٹر

کی دوری پر ہے۔جبکہ کاہرہ سب ڈویژن ٹھاٹری اور سب ڈویژن گندو کے درمیان میں ہے۔
پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں کی حالت ازحد خستہ حال ہے۔اس کی وجہ سے فائر اینڈایمرجنسی سروس لوگوں کو وقت پر دستیاب نہیں ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے کئی بار عوام کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تحصیل کاہرہ میں کئی بار آگ کی ہولناک واردات سامنے آچکی ہیں جہاں فائر اینڈ ایمرجنسی سروسزکو اطلاع موصول ہونے تک لاکھوں روپے کا نقصان ہوجاتارہا۔ اس سلسلے میں تحصیل کاہرہ کے کئی سماجی کارکنان نے انتظامیہ کے نام درخواستیں لکھی کہ کاہرہ میں فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز قائم کی جائیں لیکن ابھی تک یہ اہم سروس دستیاب نہیں کی گئی۔اس سلسلے میں سماجی کارکن آصف اقبال بٹ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ وقتی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے انتظامیہ کو چاہیے کہ کاہرہ تحصیل کو الگ سے فائر اینڈ ایمرجنسی کی ایک گاڑی دستیاب کی جائے تاکہ لوگوں کو مشکلات سے دوچار نہ ہونا پڑے۔آصف اقبال بٹ نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں تحصیل کاہرہ میں چھ سے زائد آگ لگنے کی وواردات سامنے آئیں، جن میں کم سے کم پچاس لاکھ سے زائد مالی نقصان ہوا۔انہوں نے کہا کہ وقت پر فائر اینڈ امرجنسی سروس ہوتی تو لوگوں کا اتنا نقصان نہ ہوتا۔انہوں نے مزید کہاکہ تحصیل کے پہاڑی علاقہ جات کی سڑکوں کی حالت ابتر ہے۔جہاں ٹھاٹھری سے فائر اینڈایمرجنسی سروس کی گاڑی پہنچنا بالکل ناممکن ہے۔انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ تحصیل کاہرہ کی آبادی او ررقبے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو الگ سے فائراینڈ

ایمرجنسی سروس کی گاڑی فراہم کی جائے۔
اسی ضمن میں ایک نوجوان ابرار جنگ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ فائر اینڈ امر جنسی سروس ایک بنیادی سہولت بن چکی ہے جب کہ آج کے اس دور میں آگ کی وردات کا سامنے آنا کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ پہاڑی علاقوں میں کئی مسائل ایسے ہیں جن کی وجہ سے آگ لگ سکتی ہے۔ابرار جنگ نے کہا کہ جنگلات کے اردگرد رہنے والے لوگوں کو جنگلات میں آگ کی ہولناک واردات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب بھی آگ کی واردات سامنے آتی ہیں گاڑی کو کاہرہ پہنچنے میں وقت لگ جاتا ہے۔اس کے باوجود خستہ حال سڑکوں پر اس گاڑی کا چلنا بھی مشکلات سے کم نہیں۔انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ کاہرہ میں فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کو فوری طور پر دستیاب کیا جائے تاکہ یہاں کے لوگوں کو آنے والے وقت میں زیادہ نقصان نہ اٹھانا پڑے۔


اس سلسلے میں ڈی ڈی سی ممبرمحراج ملک نے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب ڈویژن ٹھاٹھری اور تحصیل کاہرہ کا درمیانی حصہ کم از کم پندرہ کلومیٹر ہے۔ اس کے علاوہ کاہرہ تحصیل پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے۔انہوں نے کہاکہ تحصیل کاہرہ کی آبادی کم سے کم پچاس ہزار سے زائد ہے۔ آبادی کے لحاظ سے ہو یا رقبے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو فائر اینڈ امرجنسی سروس کا ہونا از حد ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحصیل کاہرہ میں عرصہ پانچ سالوں میں لاکھوں روپے کا نقصان ہواہے۔کویڈ۔19کے دوران جب لوگوں کی آمدنی کم ہو گئی تھی، اس دوران ایسے حادثات اور بھی ذیادہ تکلیف دیتا ہے۔اگرفائر ایمرجنسی سروس ہوتی توشاید اس نقصان کو بچایا جا سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہاں کی غریب عوام کے ساتھ انتظامیہ کا برتاؤ بہترین رہنا چاہیے اور فائر امرجنسی سروس کو فوری طور پر بحال کیا جانا چاہئے۔اس سلسلے میں جب ہم نے سماجی و سیاسی کارکن محسن جمال سے بات کی تو انہوں نے کہا آج کے اس ڈیجیٹل دور میں تمام طرح کی سہولیات دستیاب ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ فائرنگ ایمرجنسی سروس کا ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اچانک آگ لگنے کی وجہ سے کئی مرتبہ تحصیل کاہرہ میں از حد مالی نقصان ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں کی غیر سرکاری تنظیموں کی وجہ سے جانی نقصان کو وقتی طور بچایا جا سکتا ہے لیکن مالی نقصانات کو بچانے میں آج تک تمام غیر سیاسی تنظیمیں بھی ناکام رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کا حل یہی ہے کہ تحصیل کاہرہ کو الگ سے فائر اینڈایمرجنسی سروس فراہم کی جائے جس سے آنے والے وقت میں لوگوں کو اس طرح کی مشکلات اور اس طرح کے نقصانات سے محفوظ کیا جا سکے۔


کسی بھی علاقے کی ترقی کے لیے ایک طرف جہاں ہسپتال اور پولیس کا بہترنظام ہونا ضروری ہے تو وہیں دوسری طرف فائر اسٹیشن کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اگرچہ انتظامی سطح پر اسے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی لیکن ہنگامی حالات میں اس کی ضرورت سمجھ میں آتی ہے۔ ایسے میں انتظامیہ کو اس کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے اس علاقے میں تمام سہولیات سے آراستہ فائر اینڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ بھی قائم کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کو وقت پر مدد فراہم ہو سکے۔

بابر نفیس
ڈوڈہ، جموں