ملک کی دیہی خواتین آج بھی با اختیار نہیں ہیں

جیسے جیسے 21ویں صدی کا ہندوستان ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ترقی کر رہا ہے، خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ خواتین ہر جگہ کسی نہ کسی شکل میں اس کا شکار ہو رہی ہیں۔ شہر ہو یا گاؤں، محلہ ہو یا اعلیٰ سوسائٹی یا پھرگھر ہویابازار، چاہے وہ اپنا ہو یا غیر۔ ہر کسی سے امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔ یہ مسئلہ شہروں اور دیہی علاقوں دونوں میں یکساں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ شعور کی وجہ سے ایسے مسائل شہروں میں سامنے آتے ہیں یا تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے خواتین اپنے اوپر ہونے والے تشدد کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں جبکہ دیہی علاقوں کی خواتین تعلیم اور شعور کی کمی کی وجہ سے اپنے اوپر ہونے والے تشدد کے خلاف بات نہیں کرپاتی ہیں۔دوسری بات جو اہم ہے وہ یہ کہ ان علاقوں میں میڈیا کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بھی زیادہ تر کیس رپورٹ نہیں ہوتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ دیہی علاقوں کی خواتین پر کوئی تشدد نہیں ہوتا ہے۔

خواتین کے معاملے سے متعلق ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ دو سالوں میں کورونا اور لاک ڈاؤن کے دوران خواتین کے خلاف مظالم میں غیر متوقع اضافہ ہوا ہے۔ پہاڑی ریاست اتراکھنڈ بھی اس فہرست میں نمایاں ہے۔ یہ وہ ریاست ہے جہاں شہری آبادی سے زیادہ دیہی علاقے ہیں۔ یہی نہیں دیہی معاشرے میں مردوں کے مقابلے خواتین گھر سے باہر تک کا کام سنبھالتی ہیں۔ اس کے باوجود اس ریاست میں خواتین کے خلاف تشدد کے زیادہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ تمام تر ذمہ داری اٹھانے کے باوجود اسے معاشرے میں دوسرا درجہ حاصل ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کے دور میں معاشرہ ڈیجیٹل ہو گیا ہے لیکن لوگوں کی سوچ اس سطح تک کیوں تیار نہیں ہو سکی؟دیہی علاقوں میں صنفی امتیاز کی جڑیں اتنی گہری ہیں، جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہم اتراکھنڈ کے پہاڑی علاقوں کی بات کریں تو یہ امتیاز ہمیں روایت کی شکل میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ جہاں لڑکیوں کو آزادانہ بات کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے وہیں تعلیم کے نام پر بھی ان کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ اس حوالے سے گاؤں کی ایک لڑکی منجو بتاتی ہے کہ ”اسکول میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے بہتر تعلیم نہیں ہو پا رہی ہے، ایسے میں لڑکوں سے کہا جاتا ہے کہ تم شہر میں پڑھنے کے لیے نکلو، اگر لڑکی بھی یہی شکایت کرے تو الٹا طعنہ دیا جاتا ہے کہ تمہں پڑھ لکھ کر کون سا افسر بننا ہے؟ آخر میں تو شادی اور چولہا ہی دیکھنا ہے۔اس لئے جیسی پڑھائی ہو رہی ہے کرلو۔وہ کہتی ہے کہ ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس علاقے کے کوئی والدین لڑکیوں کو پڑھنے کے لیے شہر بھیجتے ہوں۔

دوسری طرف اگر رواج کی بات کی جائے تو معاشرے میں ایسی رسمیں رائج ہیں جن کا کوئی مستند جواز نہیں ہے، اس کے باوجود وہ رسم صرف لڑکیوں اور عورتوں کو نبھانے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ جس طرح لڑکیوں کو نجس کے نام پر حیض کے دنوں میں گھر سے باہر گائے، بھینس یا بکری کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے، وہ ایک انتہائی غیر انسانی فعل ہے۔ جیسے کوئی بھی مہذب معاشرہ قبول نہیں کرے گا۔حد تو یہ ہے کہ چاہے موسم سرما ہو یا گرمی، لڑکیاں کتنی ہی خوفزدہ ہوں، انہیں حیض کے دوران صبح 4 بجے دریا پر نہانے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔ اس دوران وہ جس بستر پر رات کو سوتی ہیں اسے بھی دھونے کو کہا جاتا ہے۔ ایسے میں یہ سوچنا بھی مشکل ہے کہ اسے ذہنی طور پر کتنی تکلیف ہوتی ہوگی۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ نوعمر لڑکیاں جو پہلی بار ماہواری کا سامنا کر رہی ہیں ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے جبکہ انہیں ایسے نازک لمحات میں خاندان کے تعاون اور ساتھ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔جس طرح نوعمر لڑکیوں کو صبح سویرے دریا پر اکیلے نہانے کے لیے بھیجا جاتا ہے، ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر ان کے ساتھ کوئی حادثہ یا استحصال ہوتا ہے تو اس کا کون ذمہ دار ہوگا؟ شاید تنگ اور غیر مستند عقائد میں گھرے اس معاشرے کو کوئی فرق نہ پڑے لیکن اگر اس روش پر عمل نہ کیا گیا تو معاشرے میں فرق ضرور پڑے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دوران انہیں اپنے ہی گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے جب تک کہ ان کی ماہواری مکمل نہ ہو جائے۔ انہیں اچھوت سمجھا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر یہ کیسی روایت ہے جس پر کسی کا دھیان نہیں جاتا؟ جس کے خلاف کوئی بحث نہیں کرتا؟ جس پر کسی کو کوئی اعترا ض نہیں ہوتا ہے؟ ویسے تو معاشرے میں لڑکیوں کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے تو پھر صبح کے اندھیرے میں دریا کے کنارے اکیلے نہانے کی اجازت کیسے دی جاتی ہے؟

اس کے ساتھ ساتھ حمل کے دوران بھی سماجی عقائد کے نام پر خواتین پر غیر انسانی مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ آج بھی اتراکھنڈ کے کئی دیہی علاقے ایسے ہیں جہاں حاملہ خواتین کے حمل کے تین ماہ کے بعد سے اس کے ہاتھ سے پانی تک نہیں پی جاتی ہے اور نہ ہی اس کے ہاتھ سے بناکھانا کھایا جاتا ہے۔ اسے کچن میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ کیونکہ اس دوران اسے نجس اور ناپاک سمجھا جاتا ہے۔ لڑکی کی پیدائش کے مقابلے لڑکا ہونے پر جشن بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس معاملے پر ایک مقامی ٹیچر نیلم گرینڈی کا کہنا ہے کہ حمل عورت کی زندگی کا سب سے خوشگوار مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ اور بھی خوشگوار محسوس ہوتا ہے جب وہ پہلی بار ماں بننے والی ہوتی ہے۔ لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ تین ماہ بعد یہ خوشی کا لمحہ کیسے نجس اور ناپاکی میں بدل جاتا ہے؟ صرف وہی جانتی ہے کہ اس دوران عورت ذہنی طور پر کیسے گزرتی ہے۔وہ کہتی ہیں کہ یہ کیسی ستم ظریفی ہے؟ ایک طرف تو معاشرہ ان عورتوں کو بانجھ کہہ کر طعنے دیتا ہے جن کو کسی میڈیکل وجہ سے اولاد نہیں ہوتی ہے لیکن دوسری طرف جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو اسے نجس سمجھا جاتا ہے؟ ایک طرف تو رحم میں پیدا ہونے والے بچے کو خدا کی نعمت سمجھا جاتا ہے، لیکن رحم میں پرورش کرنے والی عورت کو نجس اور ناپاک سمجھا جاتا ہے؟ جو کو وہ عقیدہ و عمل کے حوالے سے بھی صحیح ثابت کر نے کی غلط کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اس کے مضر اثرات کیا ہیں اور عورت اس سے ذہنی طور پر کس طرح ہراساں ہوتی ہے اس پر کوئی بحث کرنے کو تیار نہیں ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی ثقافت اور تہذیب کہاں تک اچھی ہے؟ کیا حکومت کی طرف سے کبھی ایسی کوئی مہم چلائی جائے گی جس میں لوگوں کو آگاہ کیا جائے اور اس قسم کی بددیانتی کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے؟ کیونکہ ملک کی نصف آبادی کی نمائندگی کرنے والی دیہی خواتین کو غلط عقائد سے آزاد کیے بغیر ان کے بااختیار ہونے کی تعریف بے معنی ہو گی۔
مصنف چرخہ فیچرس، ہندی کی اسسٹنٹ ایڈیٹرہیں

سمن
دہلی