ایم بی اے کرنے والی دوشیزہ نے شروع کیا کلاؤڈ کچن

ارچنا کشورچھپرہ، بہار

عالمی سطح پر سال 2020 دنیاوالوں کے لئے کسی خوفناک خواب سے کم نہ تھا،جہاں ایک طرف بیماری نما انجان دشمن کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے لاک ڈاؤن کے سخت قانون کو نفاذپوری دنیا میں ہوا۔اس کے خوف سے اسکول، کالج، دفاتر سب بند کرنے پڑے، یوں لگ رہا تھا جیسے تیز رفتار زندگی میں اچانک بریک لگ گئی ہو۔ عوام الناس کی زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئی، سب اپنے اپنے گھروں میں بند تھے۔ گھر میں رہنے کی وجہ سے لوگوں کی دنیا چہار دیواری میں سمٹ گئی تھی۔وہیں دوسری طرف اس فارغ وقت میں گھر کا باورچی خانہ بہت سے لوگوں کے لئے تجرباگاہ ثابت ہوئی۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد بہت سے لوگوں نے اپنے باورچی خانے سے حاصل کئے گئے تجربے والے ہنر کو اپنا کاروبار بنا لیا۔ گھر کے کچن کو پروفیشنل کچن بناکر”کلاؤڈ کچن“کا نام دیا اور اپنی تجارتی زندگی کا آغاز کردیا۔

 فروغ پاتی ٹیکنالوجی نے تجارت کی شکل بھی بدل دی۔ لاک ڈاؤن کے بعد ہندوستان میں کلاؤڈ کچن کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ریڈسیرکی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں کلاؤڈ کچن کی مارکیٹ 2024 تک 3 بلین ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے، جو سال 2019 میں صرف 400 ملین ڈالر تھی۔ آن لائن پلیٹ فارم کی مدد سے اس قسم کے آن لائن کاروبار میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا اور فوڈ ڈیلیوری ایپس نے چھوٹے شہروں میں بھی کلاؤڈ کچن اور خواتین کے خود کفیل ہونے کے امکانات کو بھی فروغ دیا ہے۔ دی اکنامک ٹائمز نومبر 2021 کی ایک رپورٹ کے مطابق سال2019-21کے درمیان سوئیگی(لوگوں کے گھروں تک کھانا پہنچانے والی ایک آن لائن کمپنی) پر چلنے والے کلاؤڈ کچن کی تعداد تین گنا اورزومیٹومیں دوگنا ہو گئی ہے۔

 لاک ڈاؤن کے بعد بہار کے چھپرہ شہر میں بھی کلاؤڈ کچن کھولے گئے۔ چھپرہ کے محمود چوک کی رہنے والی شردھا وردھن چنڈی گڑھ سے ایم بی اے کر رہی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ جب میں لاک ڈاؤن میں گھر آئی تو شوقیہ کھانا پکانے لگی، لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد اپنے شوق کو اپنی تجارت میں بدل دیا۔ شردھا نے کہا کہ”ہماراکیمپس پلیسمنٹ ہو گیا تھا، لیکن کورونا کی وجہ سے سب کچھ رک گیا۔ یہاں تک کہ آفر لیٹر بھی نہیں آیا، مجبوراًمجھے گھر آنا پڑا۔ مجھے کھانا پکانا پسند تھا، اس لیے میں نے گھر پر کھانا بنانا شروع کردیا۔ اچانک خیال آیا تو میں نے بھی دوسروں کی طرح سوشل میڈیا کے انسٹاگرام پر میں نے”فلائنگ ایرپن“ کے نام سے ایک اکاؤنٹ بنایا۔اس کے بعد میں جب بھی کھانا بناتی تو اسے پلیٹوں میں سجاتی اور کھانے کی خوبصورت سی تصویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیتی تھی، کافی دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اسی دوران میرے ایک دوست نے اس کام کو باضابطہ کر نے کی تجویز دی۔ جو مجھے بھی اچھی لگی۔ گھروالوں سے مشورہ کرنے کا خیال آیا، میری والدہ تو معاون ہیں، مگر والد کو کھانا بناکر فروخت کرنے کے لئے منانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ کیوں کہ ایک چھوٹے سے شہر میں ایک باپ یہ کبھی گوارہ نہیں کرتا کہ اس کی بیٹی ایم بی اے کر کے باورچی خانہ میں کھانا بناکر لوگوں کو فروخت کرے۔ اس لئے میں ان سے اس بابت بات کرنے سے بھی خوف زدہ تھی۔

مگر میری والدہ پوری طرح مجھے تعاون ہی نہیں دے رہی تھیں بلکہ حوصلہ افزائی بھی کر رہی تھیں، ان کا ماننا ہے کہ کسی بھی تجارت کے آغاز کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ چھوٹے شہروں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ لڑکوں کے معاملے میں گھر والے آسانی سے سرمایہ کاری کر لیتے ہیں لیکن جب لڑکیوں کی بات آتی ہے تو وہ احتجاج کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کی خواتین زمانہ قدیم سے صنفی عدم مساوات کا شکار رہی ہیں۔ اس تناظر میں شردھا نے آگے بتایاکہ”لڑکوں کے معاملے میں والدین چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح سے پیسہ کمائیں، خواہ نوکری ہو یا تجارت۔“ اپنی شروعات کے تعلق سے انھوں نے بتایاکہ ”کلاؤڈ کچن میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں تھی، تمام چیزیں گھر پر ہی دستیاب تھیں۔ جن چند چیزوں کی ضرورت تھی، ان کے لیے میں نے والدہ سے پیسہ لیا۔ اس لیے زیادہ پریشانی نہیں ہوئی۔آخر کارمیرے والد کو سمجھانے میں میری والدہ کامیاب ہوئیں اور سب کی رضامندی سے اگست 2021 میں میں نے فلائنگ ایرپن کے نام سے کلاؤڈ کچن کی شروعات کی۔“

شردھا نے چھٹھ پوجا (بہار کا ایک عظیم تہوار جو یہاں کے تقریباً ہر گھر میں منایا جاتا ہے) اور دیگر تہواروں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ساگ سبزی کھانے اور گوشت،مچھلی کھانے والوں کے لیے الگ الگ کچن کا انتظام کیا۔ بہنوں کے ساتھ مل کر کھانے کا مینو اور قیمت طے کی گئی۔ ٹیک آف اور ہوم ڈیلیوری کا آپشن بھی رکھا گیا۔ شردھا نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ ”میں نے کھانے کی قیمت کے ساتھ مینو کارڈ تیار کیا اور اسے اپنے انسٹاگرام پر پوسٹ بھی کیا۔“ اپنے پہلے آرڈر کے بارے میں بات کرتے ہوئے، شردھا کہتی ہیں کہ”میرا پہلا ٹیک وے گاہک میرے محلے سے ہی تھا۔ اس نے کڑاہی پنیر کا آرڈر دیا تھا۔ وہ میرا پہلا دن تھا، بہت اچھا لگا۔ کلاؤڈ کچن کے ذریعے یہ میری پہلی آمدنی بھی تھی۔ پھر آرڈر آنے لگے۔ کچھ عرصے کے بعد میں نے ایک ڈیلیوری بوائے بھی رکھ لیا، شروع میں، میں سوئیگی سے منسلک نہیں تھی، اس سال فروری میں، میں نے فلائنگ ایرپن کو سوئیگی کے ساتھ منسلک کرا دیا ہے، اس لئے اب ڈیلیوری کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ سوئیگی کے آرڈر کو 30 منٹ میں تیارکرنا ہوتا ہے۔ ایک بار تو 50 مومو زکے آرڈر آگئے، میں نے سوچا یہ ممکن نہیں ہو گا۔ لیکن میری والدہ اور میں نے مل کر اسے مکمل کیا۔ جب زیادہ آرڈر ہوتے ہیں تومیری ماں اکثر میرے ساتھ مل کر کام میں لگ جاتی ہیں۔“شردھا کی والدہ نے بتایا کہ ”پہلے میں کلاؤڈ کچن کے بارے میں نہیں جانتی تھی، جب میں نے یہ کرنا شروع کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس طرح کی چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ وہ سب کچھ خود بناتی ہے، وہ سب کچھ اکیلی کرتی ہے۔ وہ خود مارکیٹنگ بھی کرتی ہے۔ ہم تھوڑا تعاون کردیتے ہیں۔پہلے اس کے والد اس کے کام سے خوش نہیں تھے، مگر اب وہ بھی اس کی محنت اور لگن دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔“

چھپرہ کا پہلا کلاؤڈ کچن اتل کمار نے سال 2019 میں شروع کیا تھا، لیکن 2021 میں ان کا بند ہوگیا۔ اتل نے بتایا کہ کلاؤڈ کچن کھولنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ اس وقت شہر کے تمام اچھے ریستوران سبزی خور تھے، اس وقت مہینوں یہاں کسی اچھے ریستوران میں نان ویج کھانے دستیاب نہیں تھے۔ ہم نے اسی لئے کلاؤڈ کچن شروع کیا۔ ہمارے ایک دن میں اوسطاً 20 ہزار کے کھانے فروخت ہوتے تھے۔ ہفتے کے آخر میں 30 ہزارکے قریب اور ہفتے کے دنوں میں 10 سے 15 ہزار کے قریب فروخت ہوتے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ منگل اور جمعرات کو یہ 1500ہزار سے بھی کم ہو جاتے تھے، اس کے علاوہ ساون، نوراتری اور شادی کے موسم میں لوگ کہتے تھے کہ شادی بیاہ میں نان ویج کھانا ملے گا، تو کیوں آرڈر کر کے کھائیں؟نان ویج کی وجہ سے ہماری آمدنی میں اتار چڑھاؤ بہت زیادہ تھا۔ لیکن سال 2020 میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے عملہ چلا گیا، کساد بازاری کی وجہ سے لوگوں نے باہر کھانا کم کر دیا۔ آخر کار ہمارے تجارتی ساتھی اور میں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں اب اپنی تجارت بند کردینی چاہئے۔فلائنگ ایرپن کے لیے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہمیشہ ایک ہی طرح کی سروس دیں، ذائقہ کا خیال رکھیں۔“

شردھا کو بھی ان مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ”کبھی پورے دن ایک آرڈر آتا،تو کبھی ایک دن میں 10آرڈر آتے ہیں اور کبھی کبھی ایک بھی آرڈر نہیں آتا ہے۔ چھوٹا شہر ہونے کی وجہ سے یہ ایک مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ سوئیگی سے کٹوتی بھی ہوتی ہے۔ اس لئے منافع تھوڑا کم ہے۔ اپنے کاروبار کا رقبہ بڑھانے کے لیے شردھا نے اس سال درگا پوجا میلے میں 4 دنوں کا اسٹال بھی لگایا۔ کھانے میں موموز اور چاٹ رکھے گئے تھے۔ شردھا اس سال ستمبر کے مہینے میں بہار کے ماسٹر شیف کی بھی شریک رہی ہیں۔فلائنگ ایرپن کے باقاعدہ کسٹمر شرے شیکھر نے بتایاکہ”مجھے یہاں کے کھانے کا ذائقہ پسند ہے اور شردھا میری دوست بھی ہے، اس لیے اس کا کام دیکھ کر اچھا لگتا ہے۔ میں یہاں ہر وقت نہیں رہتا، لیکن جب میں رہتا ہوں، تویہاں کے کھانے کاذائقہ ضرورلیتا ہوں۔“چھپرہ سے تعلق رکھنے والی فوڈ بلاگر انجلی پریا فلائنگ ایرپن اور شردھا کے بارے میں لکھاہے کہ”وہ ہوم ڈیلیوری سروس کے ساتھ گھر پر مختلف اقسام کے ذائقہ دار کھانا بناتی ہیں۔ میں نے کئی ڈشز آزمائے ہیں، مگر میرا پسندیدہ تندوری موموز ہے اور اس کی قیمت بھی مناسب ہے، یہ حفظان صحت کے مطابق ہے، اس کے علاوہ کھانا بنانے میں اچھے معیارکے اجزاء کا استعمال کرتی ہیں، جوکھانے والوں کی صحت اور خوراک کو متاثر نہیں کرتے ہیں۔“

شردھا کا خواب ایک کیفے کھولنا ہے۔ فی الحال وہ کلاؤڈ کچن سے زیادہ نہیں کماتی،لیکن جو کچھ بھی کماتی ہے، اس کا ایک حصہ بچاتی ہے تاکہ مستقبل میں اپنا کیفے کھول سکے۔ اس نے مزید کہا کہ”میں خواتین کو بااختیار بنانے کے تھیم پر یقین رکھتی ہوں۔اس لئے میں جب بھی کبھی اپنا کیفے کھولوں گی، اس میں صرف خواتین کو ترجیح دوں گی۔“شردھا کو کلاؤڈ کچن شروع کیے ہوئے تقریباً ایک سال ہو گیا ہے۔ فی الحال منافع زیادہ نہیں ہے لیکن شروعات اچھی ہے۔ ایک ایسے چھوٹے سے شہر میں ایک لڑکی کے کام کا آغاز کوئی چھوٹی بات نہیں۔ جہاں معاشرے کے لوگوں طعنے دینے میں کوئی کمی نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف لڑکے ہی آرڈر لینے کیوں آتے ہیں؟ یہ کیا کام ہے؟ ایم بی اے کر کے بھی گھر پر کھانا پکا رہی ہے، وغیرہ۔ان سب کے درمیان اچھی بات یہ ہے کہ چھپرہ جیسے چھوٹے شہر کی لڑکیاں بھی اپنا کاروبار شروع کر رہی ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کاروبار چھوٹا ہے یا بڑا؟اپنے آپ کو بااختیار بنانے کے لئے خواتین کا جذبہ ہی اہم ہے۔یہ مضمون سنجوئے گھوش میڈیا اوارڈ 2022کے تحت لکھی گئی ہے۔