خواتین کے لیے موسیقی کی راہ ہموار کرتی رنجنا

ہر سال تقریباً 3 کروڑ لوگ مختلف قسم کے مقابلہ جاتی امتحانات میں حصہ لیتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص اس میں کامیاب ہو جائے، حالانکہ اکثر گھرانوں میں لوگ اپنے بچوں کو افسر بنانے کا خواب دیکھتے ہیں اوراس راستے پر چلنے کی ترغیب بھی دیتے ہیں۔ لیکن ہر انسان کی خواہش ایک جیسی ہوتی ہے، یہ ہرگز ضروری نہیں۔ اس لیے ہر کسی کو اپنی باطنی خوبیوں پر کام کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکے۔ بہار کے مظفر پور کی رہنے والی رنجنا جھا بھی ایسا ہی کام کر رہی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود انہوں نے نہ صرف موسیقی کے شوق کو اپنی پہچان بنایا بلکہ دوسری خواتین کے اندر بسے اس شوق کو تراشنے کے لیے بھی کام کر رہی ہیں۔

موسیقی ایک سادھنا ہے لیکن لوگوں کی نظر میں یہ آج بھی ثانوی حیثیت حاصل ہے۔ایسے میں اگرکوئی عورت گانا اور بجانا چاہے تو اسے معاشرہ میں قبول کرنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات اور رویے بدل جاتے ہیں۔لیکن اب خواتین اس تصور کو توڑ رہی ہیں۔ مظفر پور کے شیر پور کی رہنے والی 40 سالہ رنجنا جھا گزشتہ 17 سالوں سے موسیقی کی خدمت کر رہی ہیں۔ انہوں نے 10ویں تک پٹنہ میں واقع ایک پرائیویٹ اسکول سے تعلیم حاصل کی ہے اوراس کے بعد آر بی بی ایم  گرلز کالج، مظفر پور سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مظفر پور میں واقع معروف وتاریخی ایل ایس کالج سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر ڈگری حاصل کیا۔لیکن رنجنا کو بچپن سے ہی موسیقی اور فائن آرٹس میں دلچسپی تھی، اس لیے اس نے پراچن کلا کیندر، چندی گڑھ سے فائن آرٹس میں ماسٹرز کیا۔

رنجنا کہتی ہیں کہ ان کا سفر 2006 میں ایک نجی اسکول میں میوزک ٹیچر کے طور پر شروع ہوا۔ اس کے بعد، سال 2016 میں، انہوں نے اپنا میوزک انسٹی ٹیوٹ ‘نوودیا سنگیت ایوم کلا کیندر’ کی بنیاد رکھی، جو پراچن کلا کیندر، چندی گڑھ سے تسلیم شدہ ہے۔ موسیقی کی تعلیم یہاں ہر طبقے کے لوگوں کو دی جاتی ہے۔ اس وقت تقریباً 40 موسیقی کے شائقین ان سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں سے 25 سے زائد خواتین اور نوعمر لڑکیاں ہیں۔ اس کے ساتھ وہ مالی طور پر کمزور لوگوں کو موسیقی کی مفت تعلیم بھی دیتی ہیں۔ ان کے ادارے میں کلاسیکی موسیقی اور آسان موسیقی اور فنون لطیفہ بھی پڑھایا جاتا ہے۔

رنجنا کو موسیقی کے میدان میں شاندار کام کرنے پر اب تک کئی اعزازات مل چکے ہیں۔ کئی تعلیمی اداروں کی جانب سے بہترین استاد کا ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، سال 2012، 2013، 2014 اور 2017 میں انہیں گانے میں بہترین کارکردگی کے لیے بھارت وکاس پریشد نے ایوارڈ دیا تھا۔ انہیں سال 2020 میں بہار آئیڈل سے بھی نوازا گیا ہے۔ ان کا میوزک انسٹی ٹیوٹ نہ صرف موسیقی کے شائقین کا مرکز بن گیا ہے بلکہ ان کی آمدنی کا ذریعہ بھی ہے۔ ان سے تحریک لے کر بہت سی خواتین بھی اس شعبے کو اپنے روزگار کا ذریعہ بنا رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ بہت سی ایسی خواتین یہاں سیکھنے آتی ہیں جنہیں موسیقی کا شوق ہے لیکن گھر میں ان کے شوق کو کوئی نہیں سمجھتااور اہمیت نہیں دیتا ہے۔

وہاں موسیقی سیکھنے والی ایک خاتون نے (نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر) بتایا کہ انہیں بچپن سے ہی موسیقی سیکھنے کا شوق تھا، لیکن گھر میں ہمیشہ روایتی تعلیم کو اہمیت دی جاتی تھی، اس لیے ان کی یہ خواہش ادھوری ہی رہی، لیکن آج نوودیا سنگیت کلا کیندر کے ذریعے وہ اپنے شوق کو پورا کرنے کا موقع ملا۔ ایک اور طالبہ نے بتایا کہ موسیقی میں ڈگری حاصل کرنے کے لیے اسے بہار سے باہر جانا پڑتا جس کے لیے اس کے گھر والوں سے اجازت لینا مشکل تھا، لیکن رنجنا جھا کے تعاون کی وجہ سے وہ شہر میں رہ کر موسیقی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہور ہی ہے۔ اسی طرح بہت سی دیگر نوعمر لڑکیوں نے بھی بتایا کہ نوودیا سنگیت کلا کیندرکی وجہ سے نہ صرف ان کا موسیقی سیکھنے کا طریقہ آسان ہوا بلکہ اس کی وجہ سے ان کے گھر والوں نے بھی خوشی خوشی انہیں اس کی اجازت دی ہے۔

اپنے جدوجہد کے دنوں کے بارے میں رنجنا بتاتی ہیں کہ ان کے والد کو موسیقی بالکل پسند نہیں تھی۔ لیکن والدہ اور دادا کے تعاون کی وجہ سے وہ موسیقی اور فنون لطیفہ کی تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ سال 2003 میں شادی کے بعد اس میدان میں ان کی جدوجہد مزید بڑھ گئی کیونکہ انہوں نے راسخ العقیدہ ذہنیت کے خلاف جاکرغیر برادری میں شادی کی تھی۔ جس کی وجہ سے گھر سے تعاون بالکل ختم ہو گیا لیکن شوہر کے تعاون کی وجہ سے وہ آگے بڑھ سکیں اور موسیقی کے میدان میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہیں۔ اپنے آگے کے سفر کے بارے میں رنجنا کہتی ہیں کہ انہیں ہندوستانی آرٹ کلچر کو آگے لے کر جانا ہے اور میری خواہش ہے کہ میں ان لوگوں کا ساتھ دوں جو فن کے میدان میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ رنجنا کے شوہر بھی بہت اچھا گاتے ہیں۔ اپنے ادارے نوودیا سنگیت کلا کیندر کو چوٹی تک لے جانے میں ان کابھی خصوصی تعاون ہے۔

بہرحال،خواتین نے قدیم زمانے سے ہندوستانی موسیقی کے عروج میں ایک نمایا کردار ادا کیا ہے۔ آج بھی موسیقی کو خواتین کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اس میدان میں خواتین کو کبھی بھی مناسب عزت نہیں ملی۔ لیکن اس سے اس کی شراکت میں کبھی کمی نہیں آئی۔ رنجنا جیسی بہت سی خواتین نے چھوٹے شہروں میں رہ کربھی موسیقی کے میدان میں جو کردار ادا کیاہے وہ تنگ نظراور خیالات والے  معاشرے کی گال پر ایک کڑارا تماچہ ہے۔