جنسی تشدد کے خلاف آواز اٹھانے والی قبائلی لڑکی

20 سالہ سواتی اوئیکے نے مدھیہ پردیش کے ہردا ضلع سے تقریباً 45 کلومیٹر دور، گونڈ قبیلے کے اکثریتی ونگرام، کھٹما کھیڈا میں 15 سال کی عمر میں نوعمر لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور جنسی تشدد کے خلاف آواز اٹھائی۔ سواتی ایک کسان مزدور کی بیٹی ہے۔ وہ چار بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہے۔ بڑے بھائی نے نویں میں فیل ہونے کے بعد پڑھائی چھوڑ دی تھی۔ ماں منیشا دیوی ایک گھریلو خاتون ہیں، چونکہ ان کے بیٹے نے پڑھائی چھوڑ دی تھی، وہ نہیں چاہتی تھیں کہ سواتی اپنی پڑھائی جاری رکھے۔ دوسری طرف مدھیہ پردیش حکومت کی طرف سے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے چلائی جانے والی اسکیموں کا اکثر گاؤں والوں کو کچھ وجوہات کی بنا پر فائدہ نہیں ملتا۔ پڑھائی کے دوران سواتی کے پاس حکومت کی طرف سے دی گئی سائیکل تک نہیں تھی۔ اس لیے وہ اسکول جانے کے لیے اپنے گاؤں کھٹما کھیڑا سے 8 کلومیٹر پیدل سفر کرتی تھیں۔

سواتی کو ویران سڑکوں سے 8 کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا تھا۔ اس وقت اسے راستے میں لڑکوں اور نشا کرنے والوں کے ہاتھوں چھیڑ چھاڑ اور طعنوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پہلے سواتی اکیلی اسکول جاتی تھی لیکن اس کی ہمت سے متاثر ہو کر گاؤں کی کچھ لڑکیوں نے بھی اسکول میں داخلہ لے لیا۔ لیکن لڑکوں کی طرف سے چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے وہ لڑکیاں بہت بے چین ہونے لگیں۔ اس خوف اور اندیشے کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں نے اسکول جانا چھوڑ دیا۔ لیکن سواتی ا پنی پڑھائی مکمل کرنے کی خواہش سے اکیلی اسکول جانے لگی۔ ایک دن اس کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آیا کہ اس کی ہمت ٹوٹ گئی۔ چونکہ اس کے والدین پڑھائی کے خلاف تھے، اس لیے وہ اپنی بات کسی کے ساتھ شیئر نہیں کر پا رہی تھی اور ایک دن اس نے یہ کہہ کر سکول جانا چھوڑ دیا کہ اب اسے پڑھائی میں دل نہیں لگتا۔

سواتی بتاتی ہے کہ تقریباً دو سال بعد ایک دن وہ گاؤں میں آشا دیدی سے ملی اور ان کی شناسائی سے متاثر ہو کر اس نے اسکول چھوڑنے کی وجہ ان سے بتائی۔ آشا دیدی نے اسے حوصلہ دیا اور اس کے خلاف لڑنے کی ہمت دی۔ اس کے بعد اس کا سارا خوف ختم ہو گیا۔ اس نے لڑکوں کی طرف سے چھیڑ چھاڑ اور فحاشی کے بارے میں اپنے والدین کے ساتھ واضح طور پر شیئر کیا اور ان لڑکوں کے خلاف تھانے میں ایف آئی آر درج کرنے کی بات بھی کی۔ سواتی کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں وہ سرپنچ کے پاس بھی گئی اور اپنی شکایت درج کرائی۔ جس کے بعد سرپنچ متحرک ہو گئے اور لڑکوں کو سخت ہدایات دیں۔ اس کے ساتھ گاؤں اور سنسان سڑکوں پر پولیس کی گشت بھی بڑھا دی گئی۔

گاؤں والے سواتی کی ہمت کو داد دینے لگے۔ اس کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس نے پرائیویٹ سے ہائی اسکول کا فارم بھرا اور 67 فیصد نمبر لے کر پاس ہوئی۔ اس نے اپنی مزید پڑھائی جاری رکھی۔ آج وہ کمپیوٹر میں بی اے کر رہی ہے۔ اس کے دکھائے گئے ہمت نے گاؤں والوں کو اتنا متاثر کیا کہ وہ بھی اپنی لڑکیوں کو اسکول بھیجنے لگے۔ اب کھٹما کھیڑا میں بیٹیوں کی تعلیم پر زیادہ پابندی نہیں ہے۔ اس حوالے سے سواتی کے والد بھائی لال کا کہنا ہے کہ ‘ہم بہت غریب ہیں۔ معاشرے میں لڑکیوں کے بارے میں جس طرح کی بحث ہوتی ہے اس سے ہم ڈر جاتے ہیں۔ ہمیں پڑھائی سے زیادہ بچیوں کے حفازت کی فکر ہوتی ہے۔سواتی کہتی ہے کہ ‘نوعمر لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا جنسی تشدد کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ لڑکیوں کو ہمیشہ اس کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔ لوگ اسے اکثر لڑکیوں کا قصور سمجھتے ہیں اور انہیں خاموش کر دیتے ہیں جبکہ اس میں لڑکیوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اپنے بچپن کی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہے کہ ‘گاؤں میں نہ کوئی اسکول تھا اور نہ ہی کسی کو لڑکیوں کی تعلیم کی فکر تھی۔ اپنے گاؤں میں اسکول اور دیگر وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود، اس نے ہمیشہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کا راستہ تلاش کیا۔ اگرچہ اس کے لیے اسے پدرانہ نظام اور صنفی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے والدین کہا کرتے تھے کہ وہ لڑکی ہے، پڑھ کر کیا کرے گی؟ سواتی کا کہنا ہے کہ صرف 15 سال کی عمر میں، اس نے اسکول آنے اور جانے کے دوران اپنی کمیونٹی کی لڑکیوں کوچھیڑ چھاڑ کا سامنا کرتے دیکھا ہے۔ جو ان کے اسکول چھوڑنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ لہذا، انہوں نے اس کے خلاف کام کرنے کا فیصلہ کیا۔اب وہ چھیڑ چھاڑ کے معاملے پر اپنی کمیونٹی کی 18 لڑکیوں کے ایک گروپ کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اگر اسے کوئی فیلوشپ ملے تو وہ اپنی پڑھائی جاری رکھے گی اور کمیونٹی کی لڑکیوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دے گی۔ سواتی کے گاؤں کھٹمہ کھیڑا میں اس وقت 55 نوجوان ہیں جن میں سے لڑکیوں کی تعداد 25 ہے اور صرف دو لڑکیاں اسکول چھوڑ چکی ہیں جبکہ 30 لڑکوں میں سے 9 لڑکوں نے پڑھائی چھوڑ دی ہے۔ گاؤں کی لڑکیوں کا کہنا ہے کہ اگر سواتی نے ہمت نہ دکھائی ہوتی تو شاید آج وہ بھی اسکول نہ جا پاتی۔ وہ کہتی ہیں کہ آج وہ گاؤں کی لڑکیوں کے لیے رول ماڈل بن چکی ہے۔

لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو غیر اخلاقی سمجھتے ہوئے 20 سالہ نوجوان شیوم شریو نے بھی اعتراف کیا کہ ‘وہ بھی کبھی لڑکیوں کو طعنے دیتا تھا’۔ لیکن آج اسے اپنی غلطی کا احساس ہے۔ اس نے کہا کہ یہ لڑکوں کے لیے تفریح کا ذریعہ ہے۔ ان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس سے لڑکیاں کی زندگی پر کتنا بڑا اثر پرے گا۔ حالانکہ جب وہ 18 سال کی عمر کو پہنچتے ہیں، نوجوانوں میں کچھ سمجھ آنے لگتی ہے، وہ قانون کے بارے میں تھوڑا بہت جان لیتے ہیں۔ وہ پڑھائی اور کام میں مصروف ہونے لگتے ہیں، اس لیے کچھ لڑکوں کو چھوڑ کر باقی لڑکوں میں ایسی سرگرمیاں خود بخود کم ہو جاتی ہیں۔ شیوم کی طرح گاؤں کے دوسرے نوجوان بھی لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کو غلط سمجھتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ اگر گاؤں میں اس کے خلاف عوامی شعور بیدار کیا جائے تو لڑکوں کی آنے والی نسلیں اس سے بیدار ہوں گی۔ وہ برائی سے دور ہو جائیں گے۔وہیں والدین بھی اپنی بچیوں کو اس برائی کے خلاف لڑنے کی ترغیب دیں گے۔

اس حوالے سے ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم سنرجی کے سی ای او ومل جاٹ کا کہنا ہے کہ ‘لڑکیاں چاہتی ہیں کہ وہ تعلیم حاصل کریں، آگے بڑھیں اور جمہوری عمل میں حصہ لیں۔ اس لیے انہیں تحفظ فراہم کرنا معاشرے اور حکومت دونوں کی ذمہ داری ہے۔ ملک کی تعمیر میں خواتین کی شرکت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ مردوں کی۔ اگر یہ برے عمال لڑکیوں کو درمیان میں ہی اسکول چھوڑ دینے پر مجبور کرتے ہیں، تو وہ کبھی بھی اعتماد حاصل نہیں کر پائیں گی اور وہ آزادانہ طور پر فیصلے نہیں کر پائیں گی۔ دوسری جانب خواتین اور بچوں کی ترقی کے محکمے کے جوائنٹ ڈائریکٹر سریش سنگھ تومر کا کہنا ہے کہ ‘آج بھی نوعمر لڑکیوں کے ساتھ ایسے واقعات معاشرے میں شرمناک ہیں۔ اس کو روکنے کے لیے کئی سطحوں پر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت محکمہ کے پاس صرف خون کی کمی کی شکار نوعمر لڑکیوں کا ہی ڈیٹا دستیاب ہے۔

تاہم، اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں میڈیا ایڈوائزر سمن سنگھ کا کہنا ہے کہ ‘دیہی علاقوں میں لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے گھر والے انہیں کام پر مجبور کرتے ہیں۔فصل کٹائی کے دوران لڑکیاں ا سکول چھوڑ کر کٹائی میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ یہ ڈراپ آؤٹ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ تاہم اگر لڑکیاں چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے اسکول چھوڑ دیتی ہیں تو یہ کسی بھی معاشرے کے لیے سب سے بڑا بدنما داغ ہے۔ ایسے میں خود کسی لڑکی کا آگے بڑھ کر مخالفت کرنا معاشرے کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ (چرخہ فیچرس) یہ مضمون سنجوئے گھوش میڈیا ایوارڈ 2022 کے تحت لکھا گیا ہے۔

روبی سرکاربھوپال، ایم پی