جدید دور میں بھی گوگاڑہ کی عوام سڑک سے محروم ہے

دور جدید میں سڑکوں کا ہونا از حد ضروری ہے۔خصوصاکویڈ۔19میں لاک ڈاؤن کے ایام میں جب عوام کو مخطلف مشکلات سے کو دوچار ہونا پڑ رہا تھا۔سڑکوں کے نہ ہونے سے بیماروں کو آج بھی گھنٹوں بعد پیدل ہسپتال پہنچنا پڑتا ہے۔سڑک کی اتنی اہمیت ہونے کے باوجود بھی ضلع ڈوڈہ کے تحصیل قاہرہ کی پنچائیت گوگاڑہ تا جیا سڑک کا کام آج سے تقریباً دس سال پہلے شروع کیا گیا تھا۔ اُس دوران سرکاری زمین سے تقریباً پا نچ سو میٹر اندرتک لوگوں کی زمین کو کھودی گئی۔لیکن بدقسمتی کی وجہ سے کچھ ہی دنوں تک اس سڑک کا کام چلا پھر نہ جانے کیوں روک دیا گیا۔ اس سلسلے میں جب ناگنی کے ایک رہائشی بُزرگ حاجی عبدل واحد پرنالی عمر 74 سال نامی شخص نے بتایاکہ جب فاروق عبداللہ پہلی بار جمّوں کشمیر کے وزیراعلی بنے تھے تو اُن کے دور میں اس سڑک کی سروس ہوئی تھی اور بعدمیں اس سڑک کا کام شروع کیا گیا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے یہ سڑک تب سے ہی سیاسی رشا کشی کا شکار بنتی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سڑک کے کام کو اب گیارہ سال گزر رہے ہیں لیکن افسوں اس بات کا ہے کہ ابھی تک یہاں کے لوگوں کو اس زمین کا معاوضہ بھی نہیں ملا ہے۔ حاجی واحد پرنلی نے کہا کہ ہم نے بہت ساری جگہوں پر صرف ایک گھر کے لے سڑک کو بنتے دیکھا ہے لیکن ناگنی کے لئے 2009 میں شروع کیا ہوا کام 2022 میں بھی مکمل نہیں ہو سکاہے۔

اس سڑک کے بارے میں سرپنچ کینچہ جعفر حسین ملک، نے کہا کہ یہ سڑک گوگاڑہ، ناگنی، سوگاڑی، شالا، ڈوگی،جیسے گاؤں کے لئے راحت کا ذریعہ بن سکتی ہے اس کی تعمیر نہایت ضروری ہے۔سرپنچ نے مزید بتایا کہ ا سکول جانے والے بچوں سے لیکر تحصیل ہیڈ کوارٹر میں کام کرنے والے ملازمین تک اس کے نہ ہونے سے بھی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔اِس کے علاوہ سرپنچ جیا شہناز بیگم، نے بتایاکہ ہماری پنچائیت ازل سے ہی سیاسی طور سے یتیم ہے۔یہاں کے لوگ ہر ایک سرکار سے بجلی اور سڑک کی بھیک مانگتے رہے اور سرکار بھی بڑے بڑے وعدے کرتی تھی۔ لیکن تمام وعدے جھوٹھے اور کھوکھلے نکلے۔آخر ہمارے علاقے کو نہ جانے کیوں ہمیشہ سے نظر انداز کیا جاتا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آنے والے وقت میں اپنے حق کیلئے ہمیں احتجاج بھی کرنا پڑے تو ہم تیار ہیں۔ان کے علاوہ بلاک قاہرہ کے ایک مقامی آصف اقبال بٹ نے بتایا کہ یہ سڑک تحصیل قاہرہ کی تین پنچایتوں کے مختلف علاقوں کو جوڑتی ہے۔ یہ ضلع ڈوڈہ کی واحد تین پنچایت ہیں جن کے کچھ علاقے ابھی تک سڑک جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔ آصف اقبال نے مزید کہا کہ پنچائیت جیا کے کچھ ایسے گاؤں ہیں جہاں سے لوگوں کو پندرہ سے بیس کلو میٹر پیدل سفر کر کے تحصیل ہیڈ کوارٹر تک جانا پڑتا ہے۔سڑک نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے بزرگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس سلسلہ میں جموں کشمیر ٹیچرز فارم کے زونل صدر جعفر حسین مگرے نے کہا کہ جب ہم اسکول میں پڑھتے تھے تو ہمیں یہ سن کر بہت خوشی ہوتی تھی کے گوگاڑہ تا جیا سڑک کا کام شروع ہونے والا ہے۔ لیکن اب ہمارے بچے بھی جوان ہوگئے مگر ہم آج بھی سڑک سے محروم ہیں۔اِن لوگوں کے ساتھ ہوئی نا انصافی کو لے کر ہم نے قاہرہ کے ڈی ڈی سی کونسلر مہراج ملک سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اِن لوگوں کے ساتھ حقیقت میں نہ انصافی کئی گئی ہے۔ مُجھے سمجھ نہیں آرہا ہے اگر ان لوگوں کو سڑک نہیں دینی تھی تو بلا وجہ ان کی زمین کو کیوں کھودا گیا؟اور زمین کو سڑک کے نام پر برباد کر کے ان لوگوں کو اس کا معاوضہ کیوں نہیں دیا گیا ہے؟یہ سرا سر اِس علاقے کے لوگوں کے ساتھ دھوکا اور ناانصافی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے ایک سال کے اندر گوگاڑہ سے جیا سڑک پر کام شروع کیا جائے گا۔اس کے علاوہ اس علاقہ سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی بلال بھلسی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ دراصل اس سڑک کا کام اِس لئے بند کیا گیا ہے کہ جس ٹھیکیدار کو یہ کام سونپا گیا تھا اِس کو علاقہ کے مختلف مقامات پر اور بھی کام دیئے گئے ہیں۔یہ شخص دوسرے کاموں میں مصروف تو رہا لیکن اس کو سڑک کا کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ٹھیکیدار کی لاپرواہی اور دوسرے کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے دو سال گزر گئے اور اس سڑک کے لیے آئی ہوئی رقم گورنمنٹ کے خزانے میں واپس چلے گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ جب یہاں کے لوگوں نے اس سڑک کے بارے میں پی ایم جی ایس وی کے چیف انجینئر سے بات کی تھی تو اُنہوں نے کہا تھا کہ یہ سڑک ہمارے کسی بھی نقشے میں نہیں ہے۔لیکن لوگوں کو سڑک تعمیر کرنے کی یقین دیہانی دلائیں تھی۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بھی تعمیراتی محکمہ دلچسپی سے کام کرنے کی غرض رکھتا تو آج تک اس سڑک کا کام پائے تکمیل تک پہنچا ہوتا مگر محکمہ کی نااہلی کی وجہ سے یہ کام اب تک ادھورا ہی رہ گیا ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کو کافی پریشان ہونا پڑتا ہے۔

سڑک جیسی بنیادی سہولیات کہ نہ ہونے پر جب ضلع ترقیاتی چیئرمین دھنتر سنگھ سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ اس سڑک کے لیے پیسہ واہگزاع ہوا ہے۔موسم کے ساز گار ہوتے ہی اس سڑک پر کام شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ٹھیکیداروں سے بات کرکے میں آپ کا جواب ضرور پہنچ جاؤں گا۔بہرحال اب مقامی لوگوں کو سرکار اور انتظامیہ سے ہی امیدیں وابستہ ہیں۔وہ مسلسل درخواست کررہے ہیں کہ اس سڑک کا کام جلداز جلد شروع کیا جائے تا کہ غریب عوام کو مزید مُشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ایسے وقت میں جب ملک کے کونے کونے میں سڑکوں کی جال بچھائی جا رہی ہے، ایسے وقت میں گوگاڑہ تا جیا پنچائیت کے لوگوں کو سڑک جیسی بنیادی سہولت سے محروم رکھنا کہاں کا انصاف ہے؟

راجا شکیل
ڈوڈہ، جموں