اینٹوں کے بھٹوں میں دم توڑتا بچپن

ملک میں کئی کروڑ بچے کھیلنے اور اسکول جانے کی عمر میں یومیہ اجرت والے مزدور بن جاتے ہیں۔ اینٹوں کے بھٹوں میں ایسے غیر اعلانیہ بچہ مزدوروں کی تعداد کافی ہے۔ 6سے14 سال تک کے بچے بھی 10 سے12 گھنٹے محنت کرتے ہیں۔ چائلڈ لیبر، بچوں کے حقوق، انسانی حقوق کے دعوے یہاں کی چمنی کے دھوئیں میں اڑتے نظر آتے ہیں۔ملک میں 5 سے 14 سال کی عمر کے ایک کروڑ سے زیادہ بچے کسی نہ کسی شکل میں مزدوری کرتے ہیں۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق یہ ملک میں 5 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کی کل آبادی (25.6 کروڑ) کا 3.9 فیصد ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق ملک کے تقریباً 8.4 فیصد بچہ مزدور راجستھان میں ہیں۔ یہ تعداد تقریباً 2.52 لاکھ ہے جو ملک میں تیسرے نمبر پر ہے۔ ریاست میں سب سے زیادہ بچے اینٹوں کے بھٹوں، ریت کے پتھر کاٹنے، کھیتی باڑی، جواہرات اور چوڑیاں بنانے کے کاموں میں شامل ہیں۔ تاہم ایک رپورٹ کے مطابق سال 2000 سے 2011 کے درمیان ملک میں 26 لاکھ بچہ مزدور کم ہوئے ہیں۔ لیکن پھر بھی سب سے زیادہ بچے راجستھان کے بیکانیر، گنگا نگر، اجمیر، جے پور، بھرت پور اور بھلواڑہ اضلاع کے اینٹوں کے بھٹوں میں کام کر رہے ہیں۔ جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ 10سے12 گھنٹے مسلسل اینٹیں بنا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت بگڑ رہی ہے۔

ریاست کے بھیلواڑہ کے منڈل پنچایت سمیتی کے دھنا جی کا کھیڑا گاؤں میں 5 اینٹوں کے بھٹے ہیں۔ ان پانچ بھٹوں میں سے ایک میں بہار سے 30سے35 خاندان اور یوپی سے 8 خاندان تقریباً 5 ماہ قبل یہاں کام کرنے آئے ہیں۔ ان خاندانوں میں سے ایک 8 سالہ لڑکا چیتن (نام بدلا ہوا ہے) جو کہ گہر ے گلابی رنگ کی قمیض اور ہلکے نیلے رنگ کی جینز پہنے ہوئے ہے، ریہڑی سے مٹی پھینک رہا ہے۔ جب تک چیتن پوری مٹی کو نہیں ہٹاتا، خاندان کے باقی افراد مٹی سے اینٹ بنانا شروع نہیں کر پائیں گے۔ اسی لیے کسی کی طرف اپنا دھیان کیے بغیر چیتن بیلچے سے ریہڑی میں مٹی ڈالتا ہے اور پھر وہ مٹی تقریباً 30 فٹ دور پھینکنے چلا جاتا ہے۔ بتایا گیا کہ صبح 8 بجے سے چیتن ریہڑی سے مٹی پھینکنے کا کام کر رہا ہے۔ چونکہ کام زیادہ ہے اس لیے وہ میرے سوالوں پر دھیان نہیں دیا اور تقریباً بے پرواہ اپنے کام میں مصروف رہا۔ وہاں موجود ایک مزدور دھیریندر نے بتایا ”اس اینٹوں کے بھٹے پر ہر خاندان کے ساتھ کم از کم تین بچے ہیں۔ شیرخوار بچوں کے علاوہ، علاقے کے تمام اینٹوں کے بھٹوں پر ہر بچے کا کام تقسیم کیا جاتا ہے۔ سب ایک ہی کام کرتے ہیں۔ اس میں بچے مٹی گوندھنے، بنی اینٹوں کو سیٹ کرنے اور کبھی ٹھوکریں مارنے کا کام کرتے ہیں، اس کے علاوہ مٹی ہٹانا اور معمولی کام بھی بچے ہی کرتے ہیں۔دھیریندر کے مطابق ان کے کام کے اوقات کبھی طے نہیں ہوتے کیونکہ جتنی زیادہ اینٹیں بنیں گی، اجرت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اس لیے ہر خاندان کا مقصد زیادہ سے زیادہ اینٹیں بنانا ہوتا ہے۔ اس میں بھٹہ کے مالک اور اہل خانہ کی طرف سے بچوں کے کام کرنے کی صلاحیت اور ان کی صحت کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ دھیریندر کہتے ہیں، ”تمام مزدور 12سے14 گھنٹے لگاتار کام کرتے ہیں۔ پورے دن کام کرنے کے بدلے میں بچوں کو صرف 100سے120 روپے ملتے ہیں۔ جو والدین کے حساب میں شامل ہو جاتے ہیں۔”

سیو دی چلڈرن کی 2021 کی’راجستھان میں بڑے شعبوں میں مزدوروں کے بچوں کی مزدوری اور قانونی حقوق’ کی رپورٹ کے مطابق راجستھان میں 41 فیصد بچے اینٹوں کو ریت کرنے میں مصروف ہیں، 48 فیصد اینٹ بنانے میں اور 47 فیصد اینٹوں کو خشک کرنے کے کام میں مصروف ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچے روزانہ اوسطاً 10 گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ بھٹہ پر کام کرنے والے خاندان کی ماہانہ اوسط آمدنی تقریباً 11,628 روپے ہے، جس میں سے ایک چوتھائی یعنی 2707 روپے بچوں کی اجرت کا حصہ ہے۔ یہ بچے کبھی بھی اسکول نہیں گئے۔ پچھلے پانچ ماہ سے اینٹوں کے بھٹوں پر تمام بچے صرف اینٹیں بنا رہے ہیں۔ چیتن کے ساتھ تمام قریبی اینٹوں کے بھٹوں کے تقریباً ایک ہزار بچے بھی والدین کے ساتھ اینٹ بچھانے، خشک کرنے اور مٹی ہٹانے کا کام کرتے ہیں۔شیطان ریگر، جو بھیلواڑہ میں اینٹوں کے بھٹہ مزدوروں کے حقوق کے لئے گذشتہ 9 سالوں سے کام کر رہے ہیں، اسے بھٹہ مالک اور مقامی انتظامیہ کی لاپرواہی قرار دیتے ہیں۔ ریگر کہتے ہیں ”صرف ضلع میں ہی نہیں بلکہ پورے راجستھان میں کسی اینٹ بھٹے پر بچے اسکول نہیں جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ چھوٹے بچوں کو بھی بھٹہ مالک کے پاس آنگن واڑی میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ہم نے کئی بار کوشش کی، لیکن بھٹہ مالک نے گھر والوں پر دباؤ ڈالاکہ وہ اپنے بچوں کوا سکول میں داخل نہ ہونے دیں۔”

راجستھان اسٹیٹ اینٹ بھٹہ مزدور یونین کے بھیلواڑہ ضلع کے سکریٹری شیطان کے مطابق، تارکین وطن مزدوروں کے 0سے5 سال کے بچوں کے لیے انٹیگریٹڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت پوری ریاست میں کہیں بھی منی آنگن واڑی نہیں چلائی جا رہی ہے۔ 6 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم اور دوپہر کے کھانے کا کوئی نظام نہیں ہے۔ کیونکہ اگر بچے اسکول جاتے ہیں تو ان کا کام ان کے والدین کو کرنا پڑتا ہے۔ اس سے اینٹیں بنانے کی رفتار کم ہوگی اور پیداوار متاثر ہوگی۔“ شیطان ریگر کا کہنا ہے کہ ایک اینٹ کم بنے گی، دوسری بات یہ کہ بچے اپنی استعداد سے زیادہ کام کرتے ہیں اور بھٹہ مالک بھی صرف 100 سے 120 روپے یومیہ ادا کرتا ہے۔ کوئی اور مزدور کرے گا تو مالکان کو وہ کام کم از کم 350 روپے یومیہ میں کروانا پڑے گا، اسی لیے بھٹہ مالکان گھر والوں پر دباؤ ڈال کر بچوں کوا سکول میں داخل نہیں ہونے دیتے ہیں۔اس کے علاوہ گھر والے بھی بچوں سے کام کرواتے ہیں تاکہ زیادہ مزدوری مل سکے۔راجستھان پردیش اینٹ بھٹہ مزدور یونین کی طرف سے دو سال قبل کرائے گئے سروے کے مطابق صرف بھیلواڑہ میں 4 ہزار سے زیادہ بچہ مزدور اینٹوں کے بھٹوں پر کام کر رہے ہیں۔ اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے 30 فیصد بچے لکھنے پڑھنے سے قاصر ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان بچوں کو نہ تو اینٹوں کے بھٹوں میں پڑھنے کا ماحول ملتا ہے اور نہ ہی وہ اپنے آبائی گاؤں کے اسکول میں مسلسل پڑھنے کے قابل ہوتے ہیں۔“ شیطان ریگر کہتے ہیں۔بچوں کو تعلیم نہ ملنا بھی آئین کی خلاف ورزی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 21A اور آرٹیکل 45 میں 6 سے 14 سال تک کے بچوں کو مفت لازمی تعلیم فراہم کی گئی ہے لیکن اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچے تعلیم سے محروم ہیں۔یہ صورتحال صرف راجستھان ہی نہیں پورے ملک میں ہے۔

صحت اور تارکین وطن مزدوروں پر کام کرنے والی ادے پور کی این جی او سینٹرل فار لیبر ریسرچ ایکشن کے سکریٹری سدھیر کٹیار بتاتے ہیں ”راجستھان میں اینٹوں کے بھٹوں پر آنے والے مزدور مہاجر ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر یوپی سے آتے ہیں، جو بہار اور بہار کی سرحدوں سے متصل ہے۔ ان مزدوروں کو مانسون کے موسم کے علاوہ 7سے8 ماہ کے لیے لایا جاتا ہے۔ اسی لیے تمام مزدور اپنے اہل خانہ کے ساتھ آتے ہیں۔ مہاجر اور انتہائی غربت کی وجہ سے انھیں یہاں بنیادی سہولتیں بھی نہیں ملتی ہیں۔”یوپی کے امجھر سے مزدوری کرنے آئے شیو بالک کے ساتھ ا س کی بیوی رتیہ (39)، ماں رانو اور 5 بچے رینو (8)، شیامراج (7)، روی (5)، پریا (3) اور گورو (6 ماہ) بھی آئے ہیں۔ (تمام بچوں کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں۔) رتیہ کے مطابق اس کا 7 سالہ بیٹا شیام راج اس کے ساتھ روزانہ کام کرتا ہے۔ اس کا ایک 6 ماہ کا بچہ ہے لیکن وہ اسے دودھ بھی نہیں پلا سکتی کیونکہ اسے دودھ نہیں ملتا۔ رتیہ کہتی ہیں ”بچوں کو کبھی دودھ یا پھل نہیں ملتا۔ رتیہ کو روکتے ہوئے شیوبالک کی ماں رانو بیچ میں کہتی ہیں ”صبح اٹھ کر جو کچھ ملتا ہے وہ کھا کر کام پر چلی جاتی ہے۔ میری بہو 6 ماہ قبل ماں بنی تھی۔آج ایک چھوٹا بچہ بھی اینٹوں کے بھٹوں کے بیچ پل رہا ہے۔”

اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچے زیادہ تر غذائی قلت کا شکار ہیں۔ مزدوروں کا کھانا غذائیت سے بھرپور نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے بچے آنگن واڑی میں جاسکتے تھے۔ کئی مزدوروں نے دبے لفظوں میں الزام لگایا کہ بھٹہ مالکان نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔ ریگر بھٹوں پر روزانہ کام کرنے والے مزدوروں کو قریب سے دیکھتے ہیں۔ وہ غذائیت کے پورے چکر کی وضاحت کرتے ہیں۔ بتاتے ہیں، ”بھٹوں میں صرف بچے ہی غذائیت کا شکار نہیں ہیں بلکہ والدین بھی بہت کمزور ہیں۔ خواتین مزدوروں کا وزن صرف 40سے42 کلو ہے۔ غذائی قلت کی حالت یوپی کے مقابلے بہار کے بچوں میں زیادہ ہے۔ ان کی شادی کم عمری میں ہو جاتی ہے اور عورت 17سے18 سال کی عمر میں ہی ماں بن جاتی ہے۔ یہ لوگ سبزیوں کے نام پر زیادہ سے زیادہ آلو کھانے کے قابل ہیں۔ تمام مزدور اس دن گوشت بناتے ہیں جس دن بھٹہ مالک ان کی مزدوری ادا کرتا ہے، لیکن غذائیت کے لحاظ سے یہ ناکافی ہے۔

سماجی کارکن سدھیر کٹیار کہتے ہیں ”ہم پچھلے 15 سالوں سے اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کی غذائی حالت پر کام کر رہے ہیں۔ ہم نے کئی بار قریبی آنگن واڑی مراکز کو بچوں کی فہرست دی ہے، لیکن انہیں غذائیت جیسی بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جاتی ہیں۔ یہ آشا کارکن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے میں ضرورت مند بچوں کی فہرست بنائیں اور انہیں غذائیت سے جوڑیں، لیکن کبھی بھی کوئی آشا کارکن اینٹوں کے بھٹوں پر نہیں جاتی۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے جنوری 2021 میں حکومت کے ساتھ کئی تنظیموں کی میٹنگ ہوئی اور یہ بات سامنے آئی کہ اینٹوں کے بھٹے والے علاقوں میں بچوں کو غذائیت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک الگ آشا ورکر کو تقرر کیا جانا چاہیے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس مطالبے پر اب تک کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی ہے۔اس سلسلے میں حکومت راجستھان میں انٹیگریٹڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروسز (ICDS) میں نیوٹریشن ونگ کے جوائنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر بھاگ چند بدھل کہتے ہیں ”جب تک ایسے بچے ہماری آنگن واڑی میں نہیں آتے، ہم کسی قسم کی غذائیت فراہم نہیں کر سکتے۔ ایک دو بار کوشش کی گئی کہ خشک راشن بچوں کے گھروں تک پہنچایا جائے، لیکن وہ راشن گھر والے کھا گئے اور بچے کی غذائیت جوں کی توں رہی، اسی لیے بچوں کو آنگن واڑی سنٹر تک لانا ضروری ہے۔

صلاحیت سے زیادہ کام کرنے سے بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر اثر پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچے جس ماحول میں کام کرتے ہیں وہ ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کو بھی متاثر کرتا ہے۔ راجستھان کے بچوں کے سب سے بڑے ہسپتال جے کے لون کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر اشوک گپتا چائلڈ لیبر سے جڑے بچوں کی بہت سی بیماریوں کا علاج کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں ”خطرناک کام والے علاقوں میں کام کرنے والے بچوں میں غذائیت کی شدید کمی ہوتی ہے۔ لگاتار کام کرنے سے بچوں کے جوڑ کمزور ہو جاتے ہیں۔ اس سے ان کی جسمانی نشوونما سست ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ غذائیت کی کمی ٹی بی کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسی بیماری کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔”ڈاکٹر گپتا کے مطابق چائلڈ لیبر کا اثر بچوں کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت پر بھی پڑتا ہے۔ جس زمانے میں بچوں کی ذہنی نشوونما ہوتی ہے، اس وقت وہ اینٹوں کے بھٹوں پر سخت محنت کر رہے ہوتے ہیں، باہر کی دنیا کے بچوں سے ان کا میل جول نہیں ہوتا، اس سے بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ان کی ذہنی حالت بھی انتہائی منفی ہو جاتی ہے۔ ان کے مستقبل کے خواب دم توڑ جاتے ہیں۔اکثر واقعات میں بچوں کی مزدوری بھی گھر والے ہی رکھتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں بچوں کا ذہن خاندان اور نظام کے خلاف ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ سوچ تشدد کی شکل بھی اختیار کر لیتی ہے۔”

جے پور کے ایس ایم ایس ہسپتال کے سابق سپرنٹنڈنٹ اور دمہ کے سینئر ماہر ڈاکٹر وریندر سنگھ اینٹوں کے بھٹوں کی آلودگی کو بچوں کے لیے انتہائی خطرناک سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اینٹوں کے بھٹے خطرناک حد تک فضائی آلودگی پھیلاتے ہیں۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ اینٹوں کے بھٹوں اور اس کے آس پاس رہنے والے بچوں کو بار بار سانس کے انفیکشن یعنی گلے اور پھیپھڑوں میں انفیکشن ہو جاتا ہے۔ اس سے انہیں مسلسل کھانسی اور زکام رہتا ہے۔ ” بیمار ہونے سے بچوں کی نشوونما سست ہو جاتی ہے۔” اینٹوں کے بھٹوں سے جو دھواں نکلتا ہے اس میں کاربن مونو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور مٹی کے ذرات زیادہ ہوتے ہیں۔ڈاکٹر وریندر بتاتے ہیں ”بچے اسے سانس کے ذریعے اندر لیتے ہیں، جس سے پھیپھڑوں کو بہت نقصان پہنچتا ہے اور بیماریاں انہیں جلدی پکڑتی ہیں۔ چونکہ اینٹوں کے بھٹے دیہات یا شہروں سے باہر ہوتے ہیں، اس لیے ایسے بچوں کا علاج شہری اسپتالوں میں ہوتا ہے۔ وہ شاذ و نادر ہی علاج کے لیے آتے ہیں۔ خاندان کی مالی حالت بھی ایسی نہیں کہ وہ اپنی ایک دن کی مزدور ی چھوڑ کر علاج کے لیے شہر آ سکیں۔” اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے ایک مزدور شیو بالک کا کہنا ہے کہ ”اگر وہ ڈاکٹر کے پاس کھانسی اور نزلہ دکھانے کے لیے جائیں گے تو ایک دن کی مزدوری کے لیے وہ مارے جائیں گے اور علاج کا خرچہ الگ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بچے بیمار ہوتے ہیں۔ انہیں صرف دیسی طریقے ے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جا تی ہے۔”

اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے 90فیصدبندھوامزدور ہوتے ہیں۔ بہار اور یوپی کے یہ مزدور اپنی مالی ضروریات کے لیے مقامی ٹھیکیداروں سے نقد قرض لیتے ہیں اور اسے ساری زندگی سود کے ساتھ ادا کرتے رہتے ہیں۔ اس انتظام کو لیبر اور کنٹریکٹر ایڈوانس کہتے ہیں۔ بھیلواڑہ کی تحصیل منڈل کے گنیش پورہ میں اینٹوں کے بھٹے پر اینٹیں بنانے والے یوپی کے مؤ ضلع کے امجھر گاؤں کے ایک مزدور شیو بالک کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ شیوا، جو 5 ماہ قبل اپنے خاندان کے ساتھ بھیلواڑہ آیا تھا، نے اپنی بہن کی شادی کے لیے ایک ٹھیکیدار سے بطور ایڈوانس 35 ہزار روپے لیے۔ چونکہ گاؤں میں رہتے ہوئے ایڈوانس رقم ادا کرنا مشکل تھا اس لیے ٹھیکیدار کے کہنے پر وہ یہاں آیا۔ شیو بالک کا 7 سالہ بیٹا شیام راج (بدلیا ہوا نام) بھی اس پیشگی قیمت ادا کر رہا ہے۔ چونکہ مزدوروں کا مہینے میں صرف دو بار حساب ہوتا ہے، شیام کی اجرت میں سے، اس کے والد شیوا کو صرف آدھی اجرت دی جاتی ہے۔ باقی رقم ایڈوانس اور سود کے طور پر کاٹی جاتی ہے۔ اس طرح دانستہ یا نادانستہ شیام راج بھی بچپن سے ہی اپنے والد کی ایڈوانس کی قیمت چکا رہا ہے۔

راجستھان میں چائلڈ لیبر کی شدت پولیس کے ذریعے بچائے گئے بچوں کی تعداد سے ظاہر ہوتی ہے۔ پولیس نے 2018 میں 1625 محنت کش بچوں، 2019 میں 2420 اور 2020 میں 1817 بچوں کو رہا کیا ہے۔ اس طرح راجستھان سے تین سالوں میں 5862 بچہ مزدوروں کو بچایا گیا ہے۔ صرف جے پور میں 2019 سے جنوری 2021 تک پولیس نے 470 بچوں کو بچایا ہے۔ بازیاب کرائے گئے بچوں کی عمریں 10 سے 17 سال کے درمیان تھیں۔ ان میں سے 90 فیصد بچے بہار کے مختلف اضلاع سے تھے۔ زیادہ تر بچے پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ایک طویل جدوجہد اور بحث کے بعد حکومت ہند نے 1986 میں چائلڈ لیبر کو روکنے کے لیے چائلڈ لیبر (ممنوعہ اور ضابطہ) کیا۔ قانون کے تحت 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو ملازمت پر رکھنا غیر قانونی سمجھا جاتا تھا۔ 2016 میں اس قانون میں ترامیم کی گئیں۔ اس میں خطرناک کاموں کی کیٹیگری 6 سے بڑھا کر 18 کر دی گئی۔ خطرناک کام کا مطلب ہے وہ کام جو بچوں کی زندگی اور صحت کو خطرے میں ڈالیں۔ قانون کی خلاف ورزی پر 3 ماہ قید اور 20 ہزار روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
مصنف ورک نو چائلڈ بزنس کے فیلو ہیں

مادھو شرما
راجستھان