غریبوں کاآشیانہ کب بنے گا؟

کویڈ۔19کی پہلی لہر کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست مدھیہ پردیش میں ایک ورچول کانفرنسنگ کے ذریعہ پی ایم اے وائی اسکیم کے تحت ایک لاکھ 75ہزار نئے تعمیرکردہ مکانوں کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”پہلے غریب حکومت کے پیچھے بھاگتا تھا، اب حکومت عوام کے پاس جارہی ہے۔ پی ایم مودی نے مزید کہا کہ کسی کی مرضی کے مطابق فہرست میں کوئی نام شامل یا چھوڑا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مکانات کی تعمیر کے لیے ان کے سنگ بنیاد رکھنے سے لے کر اس کے افتتاح تک انتہائی شفاف اور سائنسی طریقہ اپنایا گیا ہے۔اس میں کوئی شک کی بات نہیں کہ اس سلسلہ میں سرکار کی نیت بالکل صاف نظر آرہی ہے۔لیکن زمینی سطح پر حقیقت کیا ہے اس سلسلہ میں،میں قارئین کو مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی سیر کرواتی ہوں،جو کہ تینوں اطراف سے لائین آف کنٹرول سے گھیرا ہوا ہے، سرحدی ٹینشن کی وجہ سے یہ علاقہ ہر وقت صرخیوں میں رہتا ہے، یہاں کی زیادہ تر آبادی سرحدی علاقہ جات کے قریب رہتی ہے، جس کی وجہ سے بے روزگاری، غربت اور پسماندگی ان کا مقد ربن گئی ہے۔

بہر کیف مرکزی اسکیم پی ایم اے وائی نے ان لوگوں میں بھی پکا گھر بن جانے کی امید تو پیدا کی لیکن تا ہنوز ان کا یہ خواب ادھورا ہی ہے، جبکہ اس میں بھی کوئی شک کی بات نہیں کہ اس سمت کچھ کام ہوا ہے۔ لیکن آٹے میں نمک برابر والی کہاوت یہاں سو فیصد درست بیٹھتی ہے۔ خیر جن لوگوں کو اس ا سکیم میں سے فائدہ ملا ہے ان میں بھی اثر رسوخ اور سیاسی گٹھ جوڑ کی بو آرہی ہے۔ جبکہ وزیر اعظم کے وہ الفاظ جو انہوں نے مدھیہ پردیش میں تعمیر کئے گئے مکانوں کی افتتاحی تقریب میں کہے تھے،جن کا ذکر میں نے مضمون کی شروعات میں کیا ہے، ان پر زمینی سطح پر عمل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ جس کی مثال کیلئے پونچھ کی منڈی تحصیل کے گاوں فتح پور کا ایک غریب خاندان ہے جن کو ابھی تک اس اسکیم کے بارے میں کسی نے جانکاری نہیں دی اور نہ ہی ان کا نام کسی فہرست میں شامل ہے۔سال 2011 سے لیکر آج تک 6 پلان بنیں لیکن ان کا نام کسی فہرست میں نہیں شامل کیا گیا۔ جبکہ مقامی لوگوں کے مطابق سیکرٹری نے نئے 30سے زائد خاندانوں سے چھ،چھ ہزار یہ کہہ کر وصولے ہیں کہ آپ لوگوں کو آوس یوجنا اسکیم کے تحت مکان بنانے کیلئے پیسے فراہم کیے جائیں گے تا ہم ابھی تک انہیں کسی قسم ک کوئی بھی سہولت نہیں ملی ہے۔

اس سلسلہ میں محمد رفیق نامی شخص،جو ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ان کا چھوٹا سا آشیانہ ہے۔ جس کی خستہ حالت ہو چکی ہے۔ اس میں ایک چھوٹا سا کمرہ ہے۔ اسی کو بطور رسوئی بھی استعمال کی جاتی ہے اور اسی میں سونے و آرام کرنے کا اہتمام اور گھر کا سارا سازو سامان بھی رکھا ہواہے۔ محمد رفیق کی چار بیٹیاں ہیں۔ آئے دن ان کے اسکولی اخراجات اور کھانے پینے کا خرچ بڑھ رہا ہے۔وہیں مکان نہ ہو نے کی وجہ سے وہ کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔جبکہ مکان نہ ہونے کی وجہ سے اس کنبہ کو کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،کوئی بھی ان کی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔اس ضمن میں مزید میری بات گاؤں کے سرپنچ اختر کرمانی سے ہوئی۔ انہوں نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ سرپنچ نے پرانی فہرست میں ان کا نام نہیں لکھا تھا۔ اسی وجہ سے آج تک اس شخص کو پی ایم اے وائی اسکیم کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔وہیں وارڑ نمبر۔ ایک کے پنچ صدام احمد پسوال سے بھی بات ہوئی۔ انہوں نے بھی یہی کہاں کہ سابقہ سرپنچ اور پنچوں کی کوئی خامی رہی ہے۔ اس وجہ سے ان کا آشیانہ آج تک اس اسکیم کے تحت نہیں بن پایا ہے اور نہ ہی آج تک ان کی مدد کرنے کا کسی نے سوچا ہے۔

محمد رفیق خود کی محنت مزدوری خون پسینہ ایک کر کے اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے میں لگے ہیں۔ ان کے مکان کی خستہ حالت کو دیکھ کر پرانے زمانے یعنی زمانہ قدیم کی پوری تصویر آنکھوں کے سامنے گھومتی ہے۔لیکن افسوس تب ہوتا ہے، جب مقامی پنچائیت یاپی ایم اے وائی اسکیموں کی نظروں میں اس چھو ٹے سے گھر کی بہت زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ نہ جانے کس بنیاد پر اس کنبہ کو پی ایم اے وائی کی فہر ست میں نہیں رکھا جا رہا ہے؟ اسی ضمن میں چالیس سال کے ایک نوجوان محمد اکرم کے مطابق”ہماری تحصیل منڈی میں جب سے پردھان منتری آواس یوجنا کی اسکیم آئی ہے، ہمیں اس کی کسی طرح سے کوئی امید کی کرن نظر نہیں آئی، کیونکہ کچھ خاندانوں کو ابھی تک اس اسکیم کا کوئی فائدہ نہیں ہواہے۔ بہت سارے پلان بنیں ان منصوبہ جات میں کئی غریب خاندانوں کا کو اس اسکیم کے بارے میں کانوں کان تک خبر نہیں دی۔نہ ہی کسی قسم کی کوئی جانکاری دی گئی۔ وہ مزید کہتے ہیں میں تمام افسران سے کہنا چاہتا ہوں کہ غر یب خاندانوں کی طرف بھی ایک نظر دھرائی جائے تا کہ ہم غریب لوگ بھی آپ کی دی ہوئی اسکیموں کا فائدہ اٹھا سکیں“۔

وہیں اس حوالے سے رفیق احمد کی بیوی حفیظہ بیگم نے بتایاکہ”ہمیں مکان نہ ہونے کی وجہ سے بہت ساری دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب تیز رفتار کی بارش ہوتی ہے سارا پانی میرے مکان کے اندر آ جاتا ہے۔مجھے پڑوسیوں کے گھر بچوں کو لے کر جانا پڑتا ہے“۔ وہ اپنا درد بیان کرتے ہوئے مزید کہتی ہیں کہ ”میں اپنی دکھ بھری کہانی کس کو کہو؟کوئی سننے کو تیار نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ہمیں بیت الخلائتک نہیں ہے۔طرح طرح کی حکومت بدلی۔ لیکن ہمارا گھر نہیں بدلا۔ اس لئے میں حکومت سے مدد چاہتی ہوں اور گزارش کرتی ہوں کہ پکے مکان کیلئے ہمارا نام بھی پی ایم اے وائی کی فہرست میں رکھا جائے۔

یہ درد صرف کسی ایک محمد رفیق یامحمد اکرم کی نہیں ہے بلکہ ایسے کئی ضرورت مند ہیں جو پی ایم اے وائی کے اصل حقدار ہیں لیکن آج تک انہیں اس کا فائدہ نہیں ملا ہے۔ ایسے میں مقامی انتظامیہ اور متعالقہ محکمہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ضرورت مندوں کو ان کے حقوق دلایں تاکہ غریب عوام کا حکومت اور انتظامہ پر اعتماد مضبوط ہو سکے۔

ریحانہ کوثر ریشی
فتح پور، پونچھ