ڈراپ آؤٹ روکنے کی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے

حال ہی میں مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیرکے محکمہ اسکولی تعلیم نے سمگر شکشاابھیان کے تحت اسکول سے باہررہنے والے بچوں یعنی(او او ایس سی)کو ڈھونڈنے کیلئے تلاش ایپ لانچ کیا۔اس کا مقصد ڈیٹا کے گہرے تجزیہ اور نگرانی کے ذریعے، بروقت اور معیاری انداز میں او ایس ایس سی کی گنتی کرنا اور ان کو ٹریک کرنا ہے۔جبکہ اس ڈیجیٹل ایپلی کیشن میں ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اسکول سے باہر بچوں کی ٹریکنگ کے لیے ویب پر مبنی ایپلی کیشن شامل ہے۔وہیں اس ایپلی کیشن کا ایک اورمقصد اساتذہ اور دیگر افراد کے اسمارٹ فونز پر آسانی سے استعمال کرنااور میپنگ سروے کرنا ہے۔ جبکہ یہ ایپ ڈیٹا اکٹھا کرنے کو آسان بنا دے گا،جس سے ڈیٹا کی دستی تالیف اور ڈیٹا انٹری کے لیے بلاک یا کسی اور سطح پر بھیجنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں ایک اندازے کے مطابق 27500 اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد درج کی گئی ہے۔ وہیں یہ ایپلی کیشن اسکول سے باہر بچوں کی موثر نگرانی اور ٹریکنگ میں بھی سہولت فراہم کرے گی۔ علاوہ ازیں ا ن بچوں کی شناخت کے بعد انہیں مفت اور لازمی تعلیم کے حق(آر ٹی ای) ایکٹ 2009کے تحت خصوصی تربیتی پروگراموں کے بعد اسکول میں داخلے دئے جائیں گے۔ تاہم اس سے صاف ظاہر ہے کہ محکمہ تعلیم جموں و کشمیر میں رائٹ ٹو ایجوکیشن کیلے فعال کوششیں کررہا ہے۔ محکمہ کے ان اقدامات کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔لیکن ایسے میں کئی سارے ایسے معاملات ہیں جو بچوں کو اسکول سے باہر رہنے کیلئے مجبور کرتے ہیں، جن کی تفصیل کی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں۔لیکن ان میں سے دو دراز اور پسماندہ علاقہ جات میں اعلیٰ تعلیم کیلئے اسکولوں کی سہولت نہ ہونا ایک بنیادی وجہ ہے جو ڈراپ آوٹ کی تعداد میں اضافہ کرتا ہے۔

جس کی ایک مثال ضلع پونچھ ہیڈکواٹر سے تقریباً 25کلو میٹر کی دوری پر واقع تحصیل منڈی کے گاؤں بائلہ کے ایک ہائی اسکول کی ہے، جس کو چند سال قبل مڈل سے ہائی کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس کا درجہ تو بڑا لیکن مقامی آبادی کے مطالبات آج بھی پورے نہ ہو سکے،کیونکہ دسویں جماعت کے بعد یہاں کے طلباء کو میلوں سفر کر کے ہائی اسکینڈری پہنچنا پڑتا ہے، جہاں سب کیلئے جانا مشکل ہے۔ تاہم اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے خواب ادھورے ہی رہ جاتے ہیں، بالخصوص لڑکیاں اس کا زیادہ شکار ہو رہی ہیں۔وہیں اسی حوالے متعلقہ گاؤں کی رہنے والی نظر فاطمہ کہتی ہیں ”ہمارے گاؤں میں بہت سے ایسے بچے۔ بچیاں ہیں جنہیں اسی وجہ سے اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑنا پڑا اور سب سے زیادہ متاثر لڑکیاں ہوئی ہیں۔کیونکہ ان کے گھر والے اپنی بچیوں کو اتنی دور بھیجنے سے قطراتے ہیں“۔وہیں ایک اور طلبہ رفعت آرانے بتایا کہ ہائر سیکنڈری نہ ہونے کی وجہ سے اسے اپنی تعلیم کو روکنا پڑا۔ گھر سے ہائیرسکینڈری اسکول تک پانچ کلومیٹر کا راستہ ہے۔جہاں ہر روز پیدل سفر کرنابہت ہی زیادہ مشکل تھا۔اس کی وجہ سے انہیں گھر کے کاموں میں مصروف ہونا پڑا“۔

دریں اثناء ا علیٰ تعلیم کا خواب دیکھنے والی ایک اور متاثرہ زاہدہ اختر کا بھی یہی کہنا تھا کہ ان کے گھر سے ہائر سکینڈری اسکول بہت دور ہے اور روزانہ اسکول جانا اور واپس آنا مشکل تھا اور اگر کہیں بارش ہو جاتی ہے تو چلنے کے لئے صاف راستہ بھی نہیں ہے۔ان سب کی وجہ سے اس کے والدین نے اسکول بھیجنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ جس سے اس کی تعلیم آگے بڑھ نہیں سکی“۔ اس سے ظاہر ہے کہ دو ر دراز اور پسماندہ علاقہ جات میں آوٹ آف اسکول کا گراف کیوں بڑھ رہا ہے؟ محکمہ تعلیم یوٹی جموں وکشمیر نے تلاش ایپ لانچ کر کے یہ تو بتا دیا کہ وہ اسکول سے باہر بچوں کو اسکول میں لانے کیلئے کو شاں ہیں، ان کی کوشش کو سلام ہے۔ لیکن رفعت اور زاہدہ جیسی طلبہ کی فریاد سنی جائے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ہم اسکول تو جانا چاہتے ہیں، مگر تعلیم حاصل کرنے کے زارئع نہیں ہیں۔ رفت آرا کی والدہ کا بھی یہی کہنا تھا کے ہائر سکینڈری اتنی دور ہونے کی وجہ سے ہم اس کی تعلیم مکمل نہ کروا سکے۔ کبھی موسم کی خرابی تو کبھی سڑک نہ ہونے کی وجہ سے اور جنگلی جانوروں کے خدشات کی وجہ سے اسے اتنی دور بھیجنے سے قطراتے ہیں۔

وہیں جب ہم نے اس حوالے سے زونل ایجوکیشن آفیسر اسلم کوٹلی سے بات کی اور انہیں یہاں کے حالات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ مہربن دڑھا لفٹ اور بائلہ میں بہت بڑی آبادی رہائش پذیر ہے اور بچوں کو اعلی تعلیم کے لئے کئی کلو میٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے جن کی وجہ سے کئی بچیوں کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع نہیں ملتا۔اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایک ہائیرسکینڈری سے دوسرے ہائیر سکینڈری کا فاصلہ 7 کلو میٹر کا ہونا چاہیے۔مزید انہوں نے بتایا کہ ساتھرہ میں بھی لوگوں کی بہت بڑی تعداد قیام پذیر ہے جنہوں نے بھی اس کیلے بہت احتجاج کئے لیکن ساتھرہ اور ہائر سیکنڈری کے بیچ کا فاصلہ سات کلومیٹر سے کم ہے۔ڈراپ آؤٹ کو کم سے کم کرنے کے حوالے سے جناب اسلم کوٹلی نے بتایا کہ اس سلسلہ میں 17سے 31 جنوری تک ایک ٹریننگ پروگرام بھی منعقدکیا گیاتھا۔اس کے علاوہ ڈراپ آؤٹ کو روکنے کے لیے اور بھی قدم اٹھائے جارہے ہیں۔

بہرحال محکمہ تعلیم کی اب تک کی کوشش کو سراہا جانا چاہئیے۔ لیکن اس کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے محکمہ تعلیم اور بالخصوص مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ جہاں بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کی بات کرتی ہے تو وہ تعلیم کے ان پیاسوں کے مسائل کو بھی سمجھے اورزمینی سطح پر تعلیمی نظام کو بہتر بنائے اور بائلہ جیسے علاقہ میں قائم ہائی اسکول کا درجہ بڑھا کر اسے ہائر اسکینڈری کرنے کی بھی کوشش کرے تاکہ یہاں کی بچیاں اپنی پڑھائی کو جاری رکھ کر اپنے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواب کوپورے کر سکیں۔

ظفر مدنی
پونچھ