دیہی ترقی میں انٹرنیٹ کا بھی اہم رول ہے

06جون کو وزیر اعظم نے سرکاری اسکیموں سے منسلک ایک قومی پورٹل ’جن سمرتھ‘کا اغازکیا۔اس کا بنیادی مقصد تمام سرکاری اسکیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا اور ڈیجیٹل ذرائع سے ملک کے ہر شہریوں تک ان کی رسائی کو آسان بنانا ہے۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ پورٹل نہ صرف طلباء، کاروباریوں، تاجروں اور کسانوں کی زندگی آسان بنائے گابلکہ ان کے خوابوں کو پورا کرنے میں بھی مدد کرے گا۔ اس ایک پورٹل سے انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اپنا روزگار شروع کرنے کے لئے انہیں کس سرکاری اسکیم سے فائدہ ہوگا؟اور اس کے لئے قرض لینے کا طریقہ کار اور بینک کے قوانین کیا ہوں گے؟ یہ پورٹل ملک کے دیہی علاقوں اور وہاں کے لوگوں کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگاکیونکہ یہ ان کی پہنچ سے صرف ایک کلک دور ہوگا۔

دیہی علاقوں میں ڈیجیٹلائزیشن کا اثر درحقیقت آج کی دنیا کے ڈیجیٹل اور تکنیکی ترقی سے جڑاہوا ہے۔ ٹیکنالوجی نے جو لامحدود بلندیاں حاصل کی ہیں وہ ترقی کا نشان ہیں۔یہ ملک اور بظاہر پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہے۔ ہماری زندگی کا کوئی بھی پہلو اس ترقی پسند اختراع سے خالی نہیں ہے، جہاں اب مواصلات پہلے سے بہتر ہو گئے ہیں۔اس کے باوجودہندوستان کا ایک بڑا طبقہ ابھی تک ان سے لاعلم ہے اور ڈیجیٹل اورہائی ٹیک ترقی کے فوائد میں حصہ لینے کی شدت سے کوشش کررہا ہے۔یہ حصہ ہندوستان کے دیہی علاقوں کا ہے۔ خاص طور پر ہم مرکز کے زیر انتظام جموں اور کشمیر کے علاقوں کی بات کریں تو یہاں ابھی اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ دیہات کے بہت سے مسائل کو ٹیکنالوجی کے مکمل استعمال سے اور بعض جگہوں پر انٹرنیٹ کے ذریعے آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ دیہی ترقی میں انٹرنیٹ کی سہولت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

جموں اور کشمیر کے دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کنکشن کی سب سے زیادہ دستیاب اقسام کیبل، ڈی ایس ایل اور سیٹلائٹ ہیں۔ انٹرنیٹ آج کی دنیا میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اگر تمام دیہی آبادی کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی کو منظم طریقے سے ممکن بنایا جائے تو یہ معاشی اور تکنیکی طور پر پسماندہ اور آگے کے طبقوں کے درمیان فرق کو ختم کر سکتا ہے۔حکومت کی توقع ہے کہ انٹرنیٹ غریب اوردیہاتیوں کو اپنی زندگی کو بہتر بنانے میں کارآمد ثابت گا۔ اگرچہ انٹرنیٹ کے اخراجات نے لوگوں کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑدیا ہے، لیکن ترقی کے لئے یہ نہایت ضروری ہے۔حکومت نے انٹرنیٹ کے ذریعے گاؤں کی آبادی کو اپنے دیہی علاقوں اور ضلعی انتظامی خدمات تک رسائی کی سہولت فراہم کی ہے۔ اس اقدام سے دیہی عوام کو ان کے لیے آسان مقامات پر انتظامی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔یہ مرکزی ایجنسیوں جیسے کوآپریٹو یونینوں اور ریاستی اور مرکزی حکومت کے محکموں کے کاموں کو بھی ان کی دہلیز پر لاتا ہے۔

زمینی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن دیہی آبادی کے لیے بہت فائدہ مند بنے گی۔ کسانوں کو بنیادی طور پر فائدہ ہوتا ہے کیونکہ وہ ضرورت پڑنے پر تمام ریکارڈ حاصل کر سکتے ہیں، ریکارڈ ثالثی سے پاک ہوتے ہیں اورانہیں اپ ڈیٹ کرنا آسان ہو جاتا ہے اور عوام تک اس کی براہ راست رسائی ممکن ہوتی ہے۔کچھ لوگوں کے لیے انٹرنیٹ کا مطلب صرف ٹویٹر، فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر سوشل سائٹس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے تک ہے۔ تاہم، یہ اس سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہے۔ یہ دیہی کسانوں کی فصلوں اوراس کی قیمت کے بارے میں قومی ڈیٹا حاصل کرنے میں مددکر سکتاہے۔ یہ طلباء کواس کے امتحانات کی بہتر تیاری میں جہاں مددگار ہوگا وہیں بیروزگاروں کو روزگار کی معلومات اور گھر بیٹھ کر فارم بھرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ بہت سی دوسری چیزوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنے کا بہتر ذریعہ ہے۔

مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں اور کشمیر کے بنیادی ڈھانچے کی خرابی کے نتیجے میں بجلی کی بار بار ناکامی ہوتی ہے جس کی وجہ سے انٹرنیٹ خدمات منقطع ہو جاتی ہیں۔دیہی علاقہ جات کے دور دراز علاقوں میں مواصلاتی خدمات متاثر رہتی ہیں۔پریشان انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی باعث مصیبت بن جاتی ہے۔ ایسے میں ایک دیہی عوام انٹرنیٹ رسائی سے دور ہوجاتا ہے۔کووِڈ 19 کے دوران دیہی لوگوں کو جس پریشانی کا سامنا کرنا پڑاوہ کسی کی آنکھوں سے دور نہیں ہے۔گھر سے کام،آن لائین ایجوکیشن نیا رحجان ہے جو دیہی علاقہ جات میں کسی حد تک متاثر ہے۔اس سلسلے میں جموں کے بالائی بٹھنڈی قصبے کے برمینی کے رہنے والے محمد اشفاق جوپیشے کے اعتبار سے استاد ہیں، نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کوویڈ۔ 19 کے بعددیہی علاقے کے لوگ بھی دفتری،کاروباری اورسرکاری کاموں کے لیے انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔لیکن دور دراز علاقوں میں کمزور کنیکٹوٹی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے اور ان کے کام میں ہمیشہ رکاوٹ رہتی ہے۔ٍ

سانبہ ضلع کے بڑی برہمنہ کی رہائشی سیدہ بی بی جو ایک گھریلو خاتون ہیں اور تین بچوں کی ماں ہیں، نے کہاکہ کویڈ۔19 سے پہلے ہم سوشل میڈیا کا استعمال کرنا نہیں جانتے تھے۔حالانکہ وہ واٹس ایپ کے بارے میں جانتی تھی لیکن اسے استعمال نہیں کرتی تھی۔مگر کرونا کے بعد جب اسکول بندہوئے اور بچوں کے آن لائن کلاسزشروع ہو گئے توفون اور انٹرنیٹ کا استعمال ضروری ہو گیا اور اب وہ لوگ اس کے عادی ہو گئے ہیں۔وہ مزید کہتی ہیں، انٹرنیٹ نے ان کی زندگی بدل دی ہے اب وہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارم آسانی سے استعمال کر سکتی ہیں۔

ایک طرف جہاں انٹرنیٹ کے بہت سے فوائد ہیں وہیں دوسری جانب اس کے نقصان بھی ہیں۔جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں جموں کے بجلتا گاؤں کے رہائشی مجید چوہدری نے کہا کہ آف لائن کام کو آن لائن کی طرف منتقل کرنے سے بچوں کے دماغ پر بہت برا اثر ہوا ہے۔ ان کی فطری سوچنے کی طاقت اس آن لائن سسٹم سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔تاہم، حکومتیں اور ٹیلی کام کمپنیاں براڈ بینڈ کو بھارت کے دور دراز دیہی علاقوں بشمول جموں اور کشمیر تک پھیلانے کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔لیکن ابھی بھی اس کے پروگرام کو آسان طریقے سے بنانے اور عوام دوست زبان میں تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دیہی عوام اسے آسانی سے سمجھ سکے۔ اگر ایسا ممکن ہوتا ہے تویقیناًیہ دیہی ترقی میں انقلاب برپا کرے گا۔

ناظمہ چوہدری
جموں