دیہی سطح پر صحت کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے

دنیا بھر میں غربت اور خراب صحت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ عالمی سطح پر لاکھوں لوگوں کی خراب صحت کی وجوہات سیاسی، سماجی اور معاشی ناانصافیوں میں پیوست ہیں۔ غربت صحت کی خرابی کا سبب بھی ہے اور نتیجہ بھی۔اس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں غریب اور سب سے زیادہ کمزورطبقہ ہلاکت کا شکار ہوتا ہے۔ غربت اور ناقص صحت سے نمٹنے کے لیے غربت اور امتیاز کو برقرار رکھنے والے معاشی اور سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ پسماندہ گروہ اور کمزور افراد اکثر سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ معلومات، آمدنی اوربہتر صحت کی خدمات تک رسائی سے محروم ہوتے ہیں جو انہیں بیماری سے بچنے اور علاج میں مدد فراہم کرتی۔صحت کی خرابی کی دوسری وجہ ڈاکٹروں کی فیس، ادویات کا کورس اور صحت کے مرکز تک پہنچنے کے لیے ٹرانسپورٹ کی لاگت ایک فرد اور ان کے رشتہ داروں کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے، جنہیں ان کی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے یا ان تک پہنچنے اور علاج کی ادائیگی میں مدد کرنے کی ضرورت ہے۔ بدترین صورتوں میں، بیماری کے بوجھ کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ خاندان اپنی جائیداد بیچ دیں، روزی کمانے کے لیے بچوں کوا سکول سے نکال دیں یا بھیک مانگنا شروع کر دیں۔ جسکی وجہ سے دیکھ بھال کا بوجھ اکثر ایک خاتون پر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں اسے اپنی تعلیم ترک کرنی پڑ تی ہے، یا گھریلو اخراجات کو پورا کرنے کے لیے مزدوری کا کام کرنا پڑ سکتا ہے۔تعلیم سے محروم رہنے کے بعد کی زندگی میں عورت کے مواقع اور اس کی اپنی صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

غذائیت سے بھرپورخوراک کی کمی،پینے کے صاف پانی اور صفائی کی کمی بھی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ آمدنی کی سطح، تعلیمی حصول، نسل، اور صحت کی خواندگی سبھی لوگوں کی صحت کی خدمات تک رسائی اور ان کی بنیادی ضروریات، جیسے صاف پانی اور محفوظ رہائش، جو صحت مند رہنے کے لیے ضروری ہیں، کو پورا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں۔ دیہی باشندوں کو صحت پر اثرانداز ہونے والے کچھ سماجی عوامل کا تجربہ کرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ ان چیلنجوں کے اثرات کو دیہی علاقوں میں پہلے سے موجود رکاوٹوں، جیسے کہ عوامی نقل و حمل کے محدود اختیارات اور صحت مند خوراک کے حصول کے لیے کم انتخاب کی وجہ سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ دیہی باشندے اپنے شہری ہم منصبوں کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہیں۔ ان کے پاس غربت کی شرح بھی زیادہ ہے، صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کم ہے، اور صحت کی بیمہ کے امکانات کم ہیں۔یہ تمام عوامل صحت کے خراب نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ہندوستان میں غربت کی پیمائش کی رپورٹ کے مطابق ماہانہ فی کس کھپت کے اخراجات دیہی علاقوں میں 972 روپے اور شہری علاقوں میں 1407 روپئے کو آل انڈیا سطح پر غربت کی لکیر کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔ ہندوستان نے ایک دہائی سے زائد عرصے میں اپنی آبادی کی صحت میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس سے دیہی اور شہری علاقوں اور امیر اور غریب کے درمیان فرق کو کم کیا گیا ہے۔ تاہم، بہت بڑا تفاوت اب بھی برقرار ہے، اور دیہی علاقوں میں صحت کی دیکھ بھال تک رسائی ایک بہت بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ درحقیقت خراب صحت بھی غربت میں اضافہ کرتی ہے اور خاندان کی کام کی پیداواری صلاحیت کو کم کرتی ہے۔

جموں و کشمیر میں لوگوں کی صحت کی صورتحال قومی سطح کی کامیابیوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھ پائی ہے۔ خاص طور پر یہاں کے دیہی علاقوں میں صحت کے عام مسائل میں۔ آبادی کا ایک بڑا حصہ آج بھی خطے افلاس سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں زیادہ تر صحت مراکز غیر ہنر مند یا نیم ہنر مند پیرامیڈیکس چلاتے ہیں اور دیہی سیٹ اپ میں ڈاکٹر شاذ و نادر ہی دستیاب ہوتے ہیں۔ ایمر جنسی کی صورت میں، مریضوں کو بڑے ا ہسپتال میں بھیجا جاتا ہے جہاں وہ زیادہ الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں اور صحت کے کارکنوں اور دلالوں کے گروہ کے ذریعے آسانی سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ بنیادی ادویات کی عدم دستیابی ہندوستان میں دیہی صحت کی دیکھ بھال کا ایک مسئلہ ہے۔ کئی دیہی ہسپتالوں میں نرسوں کی تعداد ضرورت سے بہت کم ہے۔اس کے علاوہ دیہی علاقوں کے اسپتالوں میں اکثر دوائیں دستیاب نہیں ہوتیں ہیں۔ یہاں تک کہ ان میں بنیادی ادویات کی فراہمی ناقص ہے۔

دیہی علاقوں میں محکمہ صحت کی کمی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ضلع ڈوڈہ کے کاسر راتھر کا کہنا ہیں کہ یہاں ڈوڈہ کے ایک دور افتادہ گاؤں میں، گاؤں تک صرف گھوڑوں اور اونچے پہاڑی علاقوں تک رسائی حاصل ہے اور قریب ترین سرکاری اسپتال بھی 5-10کلومیٹر سے زیادہ دور ہیں۔ دور دراز کے علاقوں میں دیہی صحت کی دیکھ بھال کی خراب حالت پر روشنی ڈالتے ہوئے انکا کہنا ہے اگرچے ہسپتال تک اگر کوئی شخص پہنچ بھی جائے تووہاں صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات تک رسائی کی کمی، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی کمی، اور دیکھ بھال کے پہلے نقطہ کے طور پر غیر تربیت یافتہ پرائیویٹ پریکٹیشنرز کی برتری کا نظام خراب ہے۔ وہیں راجوری کے ایک دور دراز پہاڑی علاقے سے تعلق رکھنے والے حامد کا کہنا ہے کے جب کسی اوپری جگہ میں کوئی بیمار پڑتا ہے تو وہاں سے تھوڑا دور میڈیکل ڈسپنسری میں جانا پڑتا ہے اور وہاں بخار بلڈ پریشر جیسے معمولی بیماری کا علاج کچھ حد تک ہو جاتا ہے لیکن وہیں اگر دیکھا جائے تو اگر کوئی شخص بڑی مہلک بیماری میں مبتلا ہوجائے تو انھیں راجوری ہسپتال سے جی ایم سی جموں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔کچھ لوگوں کو پیسے کی کمی کی وجہ سیاور کام تلاش کرنے کی غرض سے شہر کا رخ کرنا پڑتا ہے اسکے لئے بھی انھیں کسی نہ کسی سے قرضہ لینا پڑھتا ہے اور پھر اس قرضے کو اتارنے کے لئے دوگنا محنت کرنی پڑتی ہے۔جسکی بدولت انھیں آرام نہیں مل پاتا اور انکی صحت پر برا اثر پڑتا ہے یہ یہ کہنا ہے کشمیر کے زلا اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے بشیر تیلی کا جو جموں میں مزدوری کرنے کی غرض سے آتے ہیں۔ کشتواڑ کے رہنے والے عادل کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ انھیں بیروزگاری اور غریبی کے مسلے تو تھے ہی، ساتھ ہی ساتھ صحت کے مسلے بھی کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشتواڑ زیادہ تر ایک پہاڑی علاقہ ہے اور اگر یہاں کوئی اچانک بیمار ہوجاتا ہے تو نزدیکی ہسپتال تک پہنچتے پہنچتے دیر ہو جاتی ہے اور اگر وقت پر پہنچ بھی گئے تو ہمیں دوسرے کسی ہسپتال میں جانے کا کہا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع کے مقامی ہسپتال میں آلات اور ٹیسٹ مشینوں اور انتہائی طبی سہولیات کی کمی کی وجہ سے ہمیں یا تو سرینگر یاجموں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

دیہی اور دور دراز علاقوں میں لوگوں کی بنیادی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کا طریقہ اکثر میٹروپولیٹن علاقوں میں رہنے والوں سے مختلف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، سہولیات عام طور پر چھوٹی ہوتی ہیں، ان کا بنیادی ڈھانچہ کم ہوتا ہے اور زیادہ وسیع پیمانے پر تقسیم شدہ آبادی کو خدمات کی ایک وسیع رینج فراہم کرتا ہے۔ غریبوں کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے، اس کے لئے وہاں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا کراور انہیں سہولیات فراہم کرکے ہی دیہی لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

ناظمہ چوہدری
جموں