کورونا کے بعد گاؤں میں روزگار کا بڑھتابحران

ملک سے کورونا کی تیسری لہر کا اثرتقریباختم ہوچکاہے۔ تاہم اچھی بات یہ ہے کہ دوسری لہر کے مقابلے تیسری لہر میں انسانی جانوں کا نقصان بہت کم ہواہے۔ ہسپتالوں میں نہ تو آکسیجن کی قلت ہوئی اور نہ ہی وینٹی لیٹرز کا بحران ہوا۔ درحقیقت 2020 میں کورونا نے تباہی کی صورت میں دنیا میں ایسی دستک دی کہ لوگوں کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ جس کی وجہ سے زندگی کا پہیہ اس طرح رک گیا کہ آج بھی وہ پٹری پر واپس نہیں آ سکی۔ پچھلے دو سالوں میں انسانوں نے اس کی بہت سی لہروں کا سامنا کیا ہے۔گذشتہ سال اس کی تیسری لہر بھارت میں بھی گزر ی تھی۔ لیکن دوسری لہر سے ہونے والی تباہی کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔اس کی وجہ سے ملک کے شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقے بھی متاثر ہوئے تھے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف بے شمار جانیں گئیں بلکہ بہت زیادہ مالی نقصان بھی ہوا۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں ٹریفک ٹھپ ہو گئی وہیں کاروباری سرگرمیاں بھی ٹھپ ہونے کی وجہ سے کسان اپنی فصلیں منڈیوں تک نہیں لے جا سکے۔ اس کے علاوہ کاروباری ادارے بند ہونے سے گاؤں والے بے روزگار ہو گئے اور وہ گاؤں واپس آنے پر مجبور ہو گئے۔ ملک کے کئی دیہی علاقے ہیں جہاں دو سال گزرنے کے بعد بھی لوگ بے روزگار ہیں۔

پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے باگیشور ضلع میں واقع گروڈ بلاک کا لمچولا گاؤں بھی ان میں سے ایک ہے۔ جہاں کورونا کی تباہی نے گاؤں کو صحت اور مالی سطح پر کافی نقصان پہنچایا ہے۔ اس دوران لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں ایک طرف وہ اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں وہیں دوسری طرف انہیں بے روزگاری کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ گاؤں کے زیادہ تر لوگ ناخواندگی کی وجہ سے یا تو شہروں میں ہوٹلوں اور ڈھابوں میں معمولی ملازم کے طور پر کام کرتے ہیں یا پھر مزدوری کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ایسے میں ان لوگوں کو لاک ڈاؤن کے بعد کے معاشی بحران میں بدترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کام نہ ہونے کی وجہ سے انہیں واپس گاؤں آنا پڑا۔ جہاں روزگار کا بحران پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ بن کر کھڑا تھا۔بے روزگاری کی وجہ سے گاؤں والوں کو نہ صرف مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس سے ان کی صحت بھی براہ راست متاثر ہوئی ہے۔ بالخصوص خواتین اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔اس عرصے میں گاؤں کی بیشتر حاملہ خواتین غذائی قلت کا شکار ہو چکی ہیں۔ آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے اسے کھانا مشکل سے ملتا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ غذائیت سے بھرپور خوراک سے محروم ہو گئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بزرگوں کو بھی اس کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس حوالے سے گاؤں کی ایک 65 سالہ بزرگ خوگتی دیوی کا کہنا ہے کہ کرونا کے بعد سے گھر کی معمولی آمدنی ہونے کی وجہ سے وہ اپنا مناسب علاج کروانے سے قاصر ہیں۔ ایسے میں اس بڑھاپے میں ان کی بیماری مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں ایسے بہت سے گھر ہیں جہاں لوگ مالی تنگی کی وجہ سے اپنے گھر والوں کا اچھا علاج نہیں کروا پا رہے تھے جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔کورونا کے دور میں معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے بچے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ جن کو اس عرصے میں نہ اچھا کھانا مل سکا ہے اور نہ ہی اچھے کپڑے مل سکے ہیں۔ اس دوران ان کی پڑھائی کو بھی کافی نقصان پہنچا۔ کئی جگہوں پر لوگ بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی بھی کر چکے ہیں۔ اس حوالے سے گاؤں کی ایک لڑکی پشپا کا کہنا ہے کہ اسے کورونا کے دور میں پڑھائی میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ بعض گھروں میں فون کی سہو لت ہونے کے باوجود نیٹ ورک کی سہولت نہ ہونے سے بہت سے طالب علم آن لائن کلاسز سے محروم ہو گئے۔ گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول لمچولا کے استاد للت جوشی بھی اس مسئلے کو سنگین سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے گزشتہ دو سالوں سے بچوں کی تعلیم مکمل طور پر چھوٹ گئی ہے۔ وہ تعلیم کی روشنی سے تقریباً دور ہو چکے ہیں۔ان کے مطابق آن لائن تعلیم کے مقابلے کلاس میں پڑھتے ہوئے اساتذہ اور طلبہء کا ایک دوسرے سے براہ راست تعلق تھا جس کی وجہ سے بچوں کی ہمہ جہت ترقی ہوتی تھی۔ لیکن کورونا کے دور میں گاؤں کی سطح پر تعلیم کے میدان میں سب سے زیادہ گراوٹ آئی ہے۔ اگر ہم لڑکیوں کی تعلیم کی بات کریں تو یہ اور بھی تشویشناک ہو گیا ہے۔ اس دوران نہ صرف ان کی پڑھائی چھوٹ گئی ہے بلکہ کئی لڑکیوں کی شادی بھی ہو چکی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ ذہنی اور جسمانی طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ پڑھائی کی عمر میں انہیں گھر کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ تعلیم سے ہمیشہ کے لیے دور ہوگئیں۔

کورونا کی وجہ سے گاؤں کی معاشی حالت پر بات کرتے ہوئے سرپنچ چندن رام کہتے ہیں کہ اس تباہی کے بعد گاؤں میں روزگار کا مسئلہ بن گیا ہے۔ روزگار کا حصول بہت مشکل ہو گیا ہے۔ حالانکہ پنچایت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنی سطح پر کوشش کر رہی ہے، لیکن بے روزگاروں کی فوج اس صلاحیت سے زیادہ بڑی ہے۔ اس کے باوجود پنچایت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ لوگوں کو روزگار ملے تاکہ وہ خاندان کے کھانے پینے کے اخراجات پورے کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نیٹ ورک کی کمی کی وجہ سے طلباء بالخصوص بچیوں کی تعلیم متاثر ہو ئی ہے۔ ان کے مطابق اس کا سب سے زیادہ منفی اثر آنے والی نسل پر دیکھنے کو ملے گا۔

تاہم سائنسدانوں کی کوششوں اور ویکسین کے ذریعے اس تباہی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے دیہات کی سطح پر جو بے روزگاری اور معاشی بحران پیدا ہورہاہے، اگر اس کا طویل مدتی حل جلد نہ نکالا گیا تو اس کے نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف دیہی زندگی متاثر ہوگی بلکہ معیشت بھی مشکل میں پڑ جائے گی، جس کا براہ راست اثر ملک کی معیشت پر پڑے گا، کیونکہ ہندوستان گاؤں کا دیش ہے۔بہرحال امید کی جانی چاہئے کہ ریاست میں ایک بار پھر سے بننے والی پشکر سنگھ دھامی کی حکومت اس مسئلہ کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کریگی۔

کویتا
لمچولا، اتراکھنڈ