اپنی افادیت اورشناخت کھوتا پنچایتی نظام

کسی ملک یا ریاست کے لئے وہاں کے باشعور اور تعلیم یافتہ جوان ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہوا کرتے ہیں۔کیونکہ انہیں باشعور جوانوں کے جذبہ اور جنون سے ناممکن ہدف کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن جموں کشمیر کا تعلیم یافتہ نوجوان اس قدر بے حال اور بیکاری میں یرغمال ہے کہ روزمرہ کی بنیادی اور لازمی ضرورتوں کو بھی پورا نہیں کر پا رہا ہے۔اس کے پاس روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ضلع پونچھ سے متصل جتنے بھی دور دراز کے علاقے ہیں، سب جوانوں کی بے حالی کا دیدہ حیراں سے نظارہ کر رہے ہیں۔محمد فاضلین نامی بے روزگار نوجوان نے اس ضمن میں اپنے تاثرات کچھ یوں بیان کئے”صرف تعلیم یافتہ جوان ہی نہیں بلکہ غیر تعلیم یافتہ ھنر مند بھی بے بسی کا شکار ہے۔کچھ سال قبل جب ریاست کو یوٹی میں تبدیل نہیں کیا گیا تھا تو ایم جی نریگا کے تحت یہاں کے بیکار جوان اور محنت کش لوگ اپنا روزگار کمالیتے تھے۔یہ اگرچہ ان کی تمام دشواریوں کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی بیکاری سے اکتائے ہوئے یہ تمام افراد کے لیے کچھ راحت کا سامان ضرور فراہم کرتا تھا۔“

محمد فضلین نے کہا کہ یہ حسرت کا مقام نہیں کہ تعلیم یافتہ نوجوان ایم جی نریگا کے تحت مزدوری کرنے پر مجبور ہوں۔ لیکن اب حالت مزید بدتر نظر آرہی ہے۔ اب نوجوانوں کو وہ پنچایتی کام بھی میسر نہیں ہے جن کے ذریعے وہ اپنا کچھ روزگار کمایا کرتے تھے۔کیونکہ پنچایتی نظام بہت ابتری کا شکار ہے۔اس کی مفلوک الحالی حیرت انگیز ہے۔اور اگر کبھی کبھار کچھ رقم کسی پنچایت کے حصے میں آ بھی جایے تو اکثر لوگوں کا دعوا ہے کہ ان کاموں پر ممبروں کا قبضہ ہو جاتا ہے۔وہ کام صرف اور صرف ان کی ذاتی وراثت ہو جاتے ہیں۔

پنچایتی نظام کا شیرازہ بکھرتے دیکھ اور اس میں آیے دن رونما ہو رہے زوال و تنزل کے اثرات کو دیکھ کر کچھ روز قبل ضلع پونچھ میں جموں و کشمیر کے پنچایتی صدر شفیق میر نے مختلف علاقوں کے پنچوں اور سرپنچوں کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیاتھا۔جس میں بی ڈی سی اور ڈی ڈی سی حضرات بھی تشریف لائے تھے۔ شفیق احمد صاحب نے پنچایتی نظام کی بدحالی پر بات کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ پنچایتی راج زمینی سطح پر بالکل ناکامی کا شکار ہو چکاہے۔اسے حکومت کی طرف سے محض حربے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ فنڈ اگر منظور بھی کیے جائیں تو بھی وہ حاصل نہیں ہو پاتے ہیں۔یہ صورتحال صرف ضلع پونچھ کے علاقوں کی ہی نہیں ہے بلکہ پورے جموں کشمیر کا یہی حال ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع پونچھ کے تمام میں سرپنچوں ممبروں اور پنچوں نے مل کرایک میمورینڈم گوورنر صاحب کے سامنے پیش کرنے کے لئے تیار کیا ہے۔جس میں یہ کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت پنچایتی راج کے تعلق سے جو دعوے کررہی ہے وہ جھوٹے اور بے بنیاد دعوے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پنچایتی راج کے نام پر ہمیں ٹھگا جا رہا ہے۔

تمام حضرات نے اس اجلاس میں بہت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنچایتی نظام کی آنے والے سالوں میں مزید ابتری کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ بلاک منڈی کے بی ڈی سی شمیم احمد گنائی سے جب اس معاملے میں تبادلہ خیال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پنچایتی نظام بدحالی اور ابتری کا شکار ہے۔مرکزی حکومت اس کی بہتری اور مضبوطی کے معاملے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ پنچایتی کاموں میں ٹھیکے داروں کی آمد باعث تشویش ہے۔اس سے اگرچہ حکومت کو کافی بچت ہو رہی ہے۔ لیکن جس مقصد کے تحت پنچایتی نظام کو قیام عمل میں لایا گیا تھا وہ اب فوت ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔اب چوں کہ پنچایت کی حدود میں ٹھیکے پر کام کروائے جا رہے ہیں تو مزدور پیشہ لوگوں کو اب سو دن کے روزگار کی ضمانت دینا سوائے مزاق کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔پنچایتی نظام کے تحت بے کار افراد کے لیے روزگار کے کچھ بہترین ذرائع فراہم کیے گئے تھے لیکن اب وہ ذرائع بھی دم توڑتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔اگر کچھ باقی دکھ رہا ہے تو وہ صرف استحصال ہے۔

محمد عمر نامی ایک نوجوان سے اس معاملے میں گفتگو کی گئی تو انہوں نے سخت لہجے میں الزام لگایا کہ وہ پنچایتی کا مو ں میں ممبروں کی خود مفاد پرستی پر سخت نالاں ہیں کیوں نکہ پنچایت کی حدود کے اندر جتنے بھی کاموں کو حکومت کی طرف سے منظوری دی جاتی ہے وہ زیادہ تر ممبروں کی آپسی سانٹھ گانٹھ سے انکے آپس ہی میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔یہ بڑی مکاری سے سارے کاموں پر ایسے پنجہ مارتے ہیں کہ گویا ذاتی وارثے کا حصہ ہو۔ اسے ظلم اور زیادتی کے سوا اور کیا نام دیا جا سکتا ہے؟اکثر افراد شکایت کرتے ہیں کہ پنچایتی پلان میں رکھے گئے ان کے کاموں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ صرف ممبروں کی خواہش کے مطابق ہی پلان تیار کیا جاتا ہے اور یوں حکومت جتنا بھی پیسہ پنچایتیں کاموں کیلئے منظور کرتی ہے۔ سب کا سب ممبروں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔تعلیم یافتہ اور بے روزگار جوانوں کے لئے پہنچاتی کاموں میں بھی کوئی حصہ نہیں۔انکی بیکاری جوں کی توں ہے۔مزدور پیشہ اب بھی دوسرے شہروں کی طرف نکلنے پر مجبور ہے۔کیونکہ ان کے یہاں جو روزگار کی تھوڑی بہت سہولت موجود تھی وہ پنچایتی ممبروں اور ان کے ساتھ ساتھ کام رکھنے والے دوسرے لوگوں کے حصے میں آ گئی ہے۔

آخر یہ کیسی بے بسی کا مقام ہے؟ذرا سا اختیار ملنے پر ایک میمبرتک کس قدر خون پینے کا عادی ہو جاتا ہے۔ پنچایتی نظام میں بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ کیا یوں ہی اپنی کمزوری کا مظاہرہ کرتے رہے گے؟اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پنچایتی نظام محض ایک بے معنی سا کوئی نظام ہے جو اپنی افادیت،شناخت اور پہچان کھو چکا ہے۔تبھی تو ایک ممبر تک قابو میں نہیں آ رہا۔اب بڑے بڑے عہدے داروں سے شکوے کرنے کے بجاے عوام پر خاص کرنو جوانوں پر یہ الزامہ ہے کہ اپنے بند لبوں کو وا کریں اور اپنی خوش گفتاری کو آتش نوائی بنا ڈالیں کیوں کہ بقول علامہ اقبال ” مرد ناداں پر کلام ِ نرم و نازک بے اثر ”

محمد اکرم لون
منڈی، پونچھ