تعلیم کے ذریعے دیہی خواتین کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے

لڑکیوں کی تعلیم کو معاشرے میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ انہیں ان کے قانونی، سماجی، سیاسی اور معاشی حقوق سے آگاہ کرتی ہے۔یہ انہیں ہر قسم کے امتیازی سلوک اور استحصال کے خلاف لڑنے کے قابل بناتی ہے۔ اس سے انہیں اپنی صلاحیتوں کا احساس ہوتا ہے اور معاشرے میں ان کا مقام بلند ہوتا ہے۔ یہ انہیں سیاسی طور پر زور آور اور مالی طور پر خود مختار ہونے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ مہارت اور خود اعتمادی حاصل کرنے میں ان کی مدد کرکے ان کے معیار زندگی کو بہتر بناتی ہے۔ تعلیم سے لیس ہو کر وہ بھوک، غربت، جہالت اور خراب صحت کے خلاف لڑ سکتی ہیں۔ تعلیم یافتہ خواتین بھی خاندان کی آمدنی میں حصہ ڈال سکتی ہیں اور اس طرح اپنے خاندان کے معاشی حالات کو بہتر بنا سکتی۔یہ ہر ایک کے لیے اہم ہے۔لیکن گزشتہ برسوں میں ہم نے خواتین کو تعلیم فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ لڑکیاں مردوں سے کم تعلیم حاصل کرتی ہیں۔خاص کر دیہی علاقوں میں یہ ذیادہ ہے۔

دیگر دیہی علاقوں کی طرح جموں و کشمیر کی دیہی خواتین کوبھی تعلیم کے ذریعے بااختیاربنایاجانا چاہیے کیونکہ وہ بھی معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں۔ تعلیم ان کی مدد کرے گی کہ وہ کاروباری مہارتوں کے حصول کے شعبوں میں نئے پیداواری مواقع سے آگاہ رہیں گی، زیادہ سے زیادہ آمدنی پیدا کرنے اور روزگار کی دنیا میں بہتر مواقع حاصل کریں گی۔ دیہی خواتین کو خواندگی کے پروگراموں میں داخلہ لینے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کہ ان کے پڑھے لکھے ہونے سے جو فوائد حاصل ہوں گے وہ ان معاشی فوائد سے کہیں زیادہ ہیں جن سے وہ اس وقت لطف اندوز ہو رہی ہیں اور اس لیے انھیں خواندگی کی کلاسوں کے لیے مقررہ وقت پر اپنی تجارت چھوڑنے کے لیے جرات مندانہ قدم اٹھانا چاہیے۔ حکومت کی طرف سے بھی ہر سطح پر خواندگی کے پروگراموں کو فنڈز دینے چاہیے، اسے خواتین کے لیے دلچسپ بنانا چاہیے تاکہ وہ خواندگی کی کلاسوں میں داخلہ لینے کے لیے آمادہ ہو سکیں۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ آزادی کے بعد سے ہندوستان میں خواتین نے قابل ذکر ترقی کی ہے۔ تا ہم آج بھی انہیں مردانہ تسلط والے معاشرے میں بہت سی برائیوں کے خلاف لڑنا پڑتا ہے۔ دیہی علاقوں میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت کم دی جاتی ہے کیونکہ ان کا مقصد گھریلو کام کرنا ہوتا ہے، جو شادی کے بعد ان کی مدد کرے گا۔ اسی سلسلے میں راجوری کے دور دراز دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والی رازینہ جو جموں یونیورسٹی سے اپنی ماسٹرس ڈگری کر چکی ہیں اور اردو شعبے میں پی ایچ ڈی کرنے جا رہی ہیں،کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کی جانب کوئی خاص دھیان نہیں دیا جاتا ہے۔ اگر لڑکیوں کو تعلیم کے مواقع ملتے بھی ہیں تو نچلے اور چھوٹی کلاسوں تک ہی کیونکہ اسکول بھی دور ہوتے ہیں اور پھر اعلی تعلیم کے لئے انھیں باہر جانے یا کسی دوسری جگہ تبادلے کی ضرورت پیش آتی ہے جس کے لئے عام طور پر والدین رازی نہیں ہوتے ہیں۔

اسی سلسلہ میں ضلع ڈوڈہ کے بھلیسہ کی رابعہ کا کہنا ہے کہ دیہی لڑکیوں کی تعلیم زیادہ آگے نہیں بڑھنے کی ایک وجہ ان کی معاشی اور اقتصادی حالت بھی ہوتی ہے۔واضح رہے رابعہ اپنے علاقہ کی ان چند خوش قسمت لڑکیوں میں ایک ہے جسے گھر سے باہر نکل کر جموں یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کا موقع ملا ہے۔ رابعہ نے مزید کہاکہ کچھ لوگ اپنی مالی پریشانیوں کی وجہ سے اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دینے میں ناکام ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں کو اس بات کا اندیشہ ہوتا ہیں کہ روزگار تو کوئی ملے گا نہیں؟رابعہ کا مزید کہنا ہے کہ دور پہاڑی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کو اتنا اہم نہیں سمجھا جاتا۔وہاں لڑکیوں کو گھر کے کام کی تربیت زیادہ دی جاتی ہے اور اسے ہی انکی کامیاب زندگی کے لئے کافی سمجھا جاتا ہے۔اس ضمن میں جموں شہر کے بٹھنڈی علاقہ سے تعلق رکھنے والی یاسمین کوثرکا کہنا ہے کہ تعلیم کے ذریعہ ہی ایک خاتون بااختیار ہو سکتی ہے۔اس نے افسوس کے ساتھ کہا کہ شہر میں ہونے کے باوجود بھی کئی گھر ایسے ہیں جو لڑکیوں کو تعلیم دینے سے ذیادہ اسکی جلدی شادی کرنے پر یقین رکھتے ہیں جس سے لڑکیوں کی تعلیم وہیں رک جاتی ہے اور وہ آگے نہیں پڑھ پاتی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اب لوگوں کا نظریہ بدل رہا ہے اور لڑکیوں کی تعلیم کی طرف توجہ دی جا رہی ہے جس سے سماج میں بدلاؤ آ سکتا ہے۔لیکن ابھی بھی اس سلسلہ میں مزید بیداری کی ضرورت ہے۔وہیں ڈوڈہ سے تعلق رکھنے والی اورجموں یونیورسٹی کے شعبہ پولیٹیکل سائنس کی طالبہ شازیہ اس بات سے متفق ہیں کہ بالائی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کو کم تر سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ عام طورپر دیہی معاشرے کی نظر میں خواتین کی تعلیم کو ایک منفی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔شازیہ نے مزید کہاکہ لوگوں کایہ غلط خیال ہے کہ لڑکیوں کو پڑھانے کا کیا فائدہ ہے کیونکہ بعد میں انہیں پھر وہی گھریلوں کام کاج اور رسوئی چلانی ہوتی ہے۔دراصل دیہی لوگوں کی سوچ ہے کہ اگر لڑکی پڑھ بھی گئی تو اسے کونسا اپنے والدین کا سہارا بننا ہے؟ اسلئے بیٹوں کی تعلیم کی طرف خاص دھیان دیا جاتا ہے اور بیٹوں کو ہی والدین کا سرمایا اور سہارہ سمجھا جاتا ہے۔

کسی نے درست ہی کہا ہے کہ ایک لڑکی کو تعلیم دو تو پورا خاندان تعلیم یافتہ ہو جائے گا۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیہی علاقوں میں جہاں خواتین میں خواندگی کی شرح کم ہے،وہاں تعلیم کے ذریعے ہی ان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ہدف بنایاجانا چاہئے۔ آج تک بہت سے والدین کا خیال ہے کہ بیٹے کی تعلیم ایک سرمایہ کاری ہے کیونکہ وہ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جب وہ بوڑھے ہوں گے توبیٹے ان کا خیال رکھیں گے۔ لہذااگر دیہی خاندان کو بیٹے یا بیٹی کو تعلیم دینے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے، تو عام طور پر بیٹے کا انتخاب کیا جائے گا۔ بیٹیوں کی تعلیم کے حوالے سے والدین کا منفی رویہ بھی لڑکی کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔گزشتہ برسوں کے دوران خاص طور پر کویڈ۔19اور لاک ڈاؤن کے بعد دیہی جموں و کشمیر کی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے، والدین اپنی بچیوں کو تعلیم دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ غربت، بلاشبہ، دیہی علاقوں میں بچیوں کے بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دیہی علاقوں میں سینکڑوں لڑکیاں اسکول نہیں جا پاتی ہیں کیونکہ ان کے خاندان تعلیم کے لیے رقم فراہم کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

اگرچہ جموں و کشمیر میں حالات بہتر ہو رہے ہیں لیکن لڑکیوں کی تعلیم کے معاملہ میں اب بھی بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ یہاں صنفی فرق بھی قومی اوسط سے زیادہ ہے۔ اگرچہ گزشتہ چند سالوں میں شہری علاقوں میں لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کے حوالے سے کافی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، لیکن دیہی علاقوں میں والدین اب بھی لڑکیوں کو اس وقت تک گھر میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں جب تک کہ اس کی شادی نہ جائے۔یہ بات بالکل عیاں ہے کہ خواتین کی تعلیم کے حوالے سے تعلیم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ والدین اپنی بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں چاہے وہ دیہی علاقوں کی بات ہو یا میٹروپولیٹن شہروں میں۔لیکن ابھی بھی اس سمت میں بہت زیادہ بیداری کی ضرورت ہے۔درحقیقت لڑکیوں کی تعلیم کو کمیونٹی ایجنڈا بنایا جانا چاہیے، کیونکہ سماجی تحریک کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہے۔

ناظمہ ناز, جموں